یو پی کا لا اینڈ آرڈر اور امیت شاہ

   

Ferty9 Clinic

آکر مری حیات کو رخصت نہ کرسکے
اِتنی بھی آپ مجھ پہ عنایت نہ کرسکے
سارا ملک جانتا ہے کہ بی جے پی نے اترپردیش اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کا ابھی سے آغاز کردیا ہے ۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ساری طاقت جھونک دینے اور پیسے کا بے تحاشہ استعمال کرنے کے باوجود بی جے پی کو جو شکست ہوئی تھی اس کے بعد بی جے پی اترپردیش کے تعلق سے اندیشوں کا شکار ہوگئی ہے ۔ وہ چاہتی ہے کہ کسی بھی قیمت پر اترپردیش میں اقتدار برقرار رہے ۔ یہی وجہ رہی کہ اترپردیش پر مکمل توجہ مرکوز کردی گئی ہے ۔ ریاست میں چیف منسٹر آدتیہ ناتھ سے پارٹی ارکان اسمبلی کو جو شکایات ہیں ان کی پرواہ کئے بغیر آدتیہ ناتھ کی کٹر ہندوتوا امیج پر ہی ایک بار پھر ووٹ حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ریاست میں صورتحال بی جے پی کیلئے عجیب بن گئی ہے ۔ وہ چیف منسٹر کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے موقف میں نہیں ہے اور نہ ہی چیف منسٹر کے خلاف شکایات کرنے والے بی جے پی کے ارکان اسمبلی اور قائدین کو مطمئن کیا جا رہا ہے ۔ اس کے باوجود بی جے پی اور اس کے قائدین بلند بانگ دعوے کر رہے ہیں کہ ریاست میں بی جے پی ایک بار پھر اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی ۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے آج اترپردیش میںلا اینڈ آرڈر کی صورتحال کی جو ستائش کی ہے وہ قابل غور ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف منسٹر آدتیہ ناتھ نے ریاست میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کو بہتری کے معاملے میں سارے ملک میں سرفہرست مقام دلادیا ہے ۔ یہ ایک ایسا جھوٹ ہے جو ملک کے وزیر داخلہ کو کم از کم نہیں بولنا چاہئے تھا ۔ سارا ملک جانتا ہے اور خود نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست میں جرائم کی شرح سارے ملک سے زیادہ ہے ۔ اس پر ریاستی حکومت سے جواب طلب کرنے اور صورتحال کو بہتر بنانے کے اقدامات کی ہدایت کرنے کی بجائے امیت شاہ لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کی ستائش کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی دعوی تھا کہ کورونا کی پہلی اور دوسری لہر کے دوران حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کیلئے موثر اقدامات کئے ہیں۔ امیت شاہ کے دونوں ہی دعوے حقائق سے بعید ہیں اور ان میں کوئی سچائی نہیں ہے ۔
سارا ملک جانتا ہے کہ کس طرح سے اترپردیش میں خواتین کے خلاف جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے ۔ اجتماعی عصمت ریزی کے واقعات عام ہوتے جا رہے ہیں۔ کئی واقعات میں تو خود بی جے پی کے قائدین ملوث پائے جا رہے ہیں۔ قتل و غارت گری عام بات ہوگئی ہے ۔ پولیس کو کھلی چھوٹ دیتے ہوئے غنڈہ گردی کا ماحول پیدا کردیا گیا ہے ۔ اقلیتوں اور دلتوں کے خلاف جرائم میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوتاجا رہا ہے اور آدتیہ ناتھ حکومت صورتحال پر قابو پانے اور جرائم کی روک تھام میں بری طرح ناکام ہے ۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ عصمت ریزی ‘ قتل ‘ اقدام قتل ‘ لوٹ مار ‘ ڈاکہ زنی وغیرہ کے معاملات میں اترپردیش ملک کی دوسری ریاستوں کے مقابلہ میں سر فہرست ہے ۔ اس کی بجائے امیت شاہ یہ دعوی کر رہے ہیں کہ لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کی بہتری میں ریاست سر فہرست ہے ۔ سارا ملک اور خود ریاست کے عوام جانتے ہیں کہ کس طرح سے کورونا کی دوسری لہر کے دوران اترپردیش میں حالات حد سے زیادہ ابتر ہوگئے تھے ۔ ریاست کے تقریبا ہر شہر میں اس قدر اموات ہوئی تھیں کہ لوگ اپنے رشتہ داروں کو جلانے یا دفن کرنے کے موقف میں تک نہیں رہ گئے تھے اور نعشیں گنگا میں بہا دی گئیں۔ گنگا کنارے ریت میں نعشوں کودبا دیا گیا اور بعد میں یہ نعشیں اوپر ابھر آئیں۔ حکومت کی جانب سے نعشوں کو نذر آتش کرنے کیلئے لکڑی تک کا انتظام نہیں کیا جاسکا تھا اور آج بلند بانگ دعوے کئے جا رہے ہیں۔
اب جبکہ اترپردیش اسمبلی انتخابات کا وقت دھیرے دھیرے قریب آتا جا رہا ہے تو بی جے پی قائدین کی جانب سے ریاست کے دوروں کی تعداد میں اضافہ ہوجائیگا ۔ جھوٹ اور غلط بیانی کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنا بی جے پی کا وطیرہ بن گیا ہے ۔ صرف بلند بانگ دعوے کرتے ہوئے اپوزیشن کو نیچا دکھانے کی کوششیں ہوتی ہیں لیکن حقیقت میں عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کچھ بھی نہیں کیا جاتا ۔ عوام سے جو وعدے کئے جاتے ہیں انہیں جملہ قرار دیتے ہوئے فراموش کردیا جاتا ہے ۔ نہ روزگار فراہم کیا جاتا ہے اور نہ بنیادی سہولتیں دی جاتی ہیں۔ مہنگائی آسمان کو چھونے پر بھی خاموشی اختیار کی جاتی ہے ۔ اس صورتحال میں عوام کو اپنی سمجھ بوجھ اور سیاسی شعور کو بیدار رکھنے کی ضرورت ہے ۔