یوروپی یونین کی امریکہ ، جرمنی اور برازیل میں جمہوری اداروں پر حملوں کی مذمت

   

برسلز : یورپی یونین کے داخلی امور کے کمیشن کی رکن یلوا جوہانسن نے کہا کہ حالیہ برسوں میں امریکہ ، جرمنی اور برازیل میں جمہوری اداروں پر حملے کیے گئے ہیں اور یہ حملیسیاسی تشدد کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس قسم کے حملے دوبارہ بھی ہوسکتے ہیں۔یلوا جوہانسن نے یورپی پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی میں منعقدہ “دائیں بازو کے نیٹ ورکس سے لاحق دہشت گردی کے خطرے” کے سیشن میں اپنی تقریر میںکہا کہ حال ہی میں واشنگٹن، برلن اور برازیل میں جمہوری اداروں پر حملے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج ہم ایک نئے خطرے کے بارے میں بات کر رہے ہیں، سیاسی تشدد انٹرنیٹ پر متحرک ہے۔ جوہانسن نے کہا کہ یہ دھمکی پاپولسٹ لیڈروں سے متاثر تھی اور انتہائی دائیں بازو کے نظریے کے ساتھ کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ واشنگٹن، برلن، برازیل میں ناکام ہو چکے ہیں، لیکن وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور سیکھ رہے ہیں اور وہ دوبارہ حملوں کی کوشش کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان گروہوں کو ناکام بنایا جانا چاہیے، جوہانسن نے کہا کہ اس طرح کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مناسب قوانین بنانے اور تعاون قائم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت پسند بنے بغیر جمہوریت قائم نہیں ہو سکتی۔ ہمیں اپنی آواز بلند کرنی چاہیے اورواشگاف الفاظ میں کہہ دینا چاہیے ان اداروں’ سیاستدانوں‘ اسمبلیوں سے اس قسم کے لوگوں کو دور رہنے کی ضرورت ہے۔امریکہ میں گزشتہ صدارتی انتخابات کے بعد سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حامیوں نے 6 جنوری 2021 کو کانگریس پر دھاوا بول دیاتھا۔جرمنی میں، 7 دسمبر کو امپیریل سٹیزنز گروپ کے ارکان نے جو وفاقی جمہوریہ جرمنی اور اس کے جمہوری اداروں کو تسلیم نہیں کرتے تھیکے خلاف آپریشن کیا گیا تھا اور فوجی آپریشن کے نتیجیمیں فوجیوں، پولیس اور ججوں سمیت 25 افراد کو دہشت گرد تنظیم کا رکن ہونے اور مسلح بغاوت کی منصوبہ بندی کے الزام میں حراست میں لیا گیاتھا۔برازیل میں، دائیں بازو کے سابق صدر جیر بولسونارو کے حامی، جو اکتوبر میں الیکشن ہار گئے تھے نیشنل کانگریس، صدارتی محل اور سپریم کورٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔