یورپ میں دائیں بازو کا بڑھتا اثر ، تارکین کیلئے پالیسیاں سخت

   

جرمنی اور نیدر لینڈز کے علاوہ برطانیہ میں بھی دائیں بازو کی کامیابی، بائیں بازو اور اعتدال پسند پارٹیوں پر دباؤ

لندن : یورپی ممالک کے انتخابات میں دائیں بازو کی بڑی جماعتوں کی کامیابی بائیں بازو یہاں تک کہ معتدل حکومتوں کو اپنی مائیگریشن پالیسیاں سخت کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق رواں ماہ کے اوائل میں منعقدہ دو ریاستی انتخابات میں جرمنی میں دائیں بازو کی جماعت کامیاب ہوئی جس کے بعد برلن حکومت نے مغربی سرحدوں پر سرحدی کنٹرول دوبارہ نافذ کر دیا۔نیدرلینڈز کی حکومت، جس میں ڈچ دائیں بازو کے رہنما گیرٹ ولڈرز کی پارٹی شامل ہے، نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ اس نے برسلز سے سیاسی پناہ سے متعلق یورپی یونین کے قوانین سے استثنیٰ کی درخواست کی ہے۔ وزیراعظم ڈک شوف نے اعلان کیا تھا کہ سیاسی پناہ کا ’بحران‘ ہے۔دریں اثنا، بائیں بازو کی لیبر پارٹی کے نئے برطانوی وزیراعظم کیئرا سٹارمر نے اطالوی ہم منصب جارجیا میلونی کے ساتھ بات چیت کے لیے روم کا دورہ کیا۔اس دورہ کا مقصد پناہ کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے اٹلی کی جانب سے اپنائی گئی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔جون کے یورپی انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا، فرانس میں سرفہرست آکر صدر ایمانوئل میکخواں کو فوری انتخابات کا مطالبہ کرنے پر مجبور کیا۔اس کے نتیجے میں دائیں بازو کے رہنما مشیل بارنیئر، جنہوں نے پہلے پناہ کے خواہشمندوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا، کو وزیراعظم نامزد کیا گیا۔جیکس ڈیلورس انسٹی ٹیوٹ تھنک ٹینک کے مائیگریشن ایڈوائزر جیروم ویگنن نے کہا کہ ’ہم یورپی یونین میں مائیگریشن پالیسیوں میں دائیں جانب تبدیلی کا تسلسل دیکھ رہے ہیں۔‘لندن میں لیبر حکومت نے اپنی دائیں بازو کی قدامت پسند پیشرو انتظامیہ کے سیاسی پناہ کے متلاشیوں کو روانڈا بھیجنے کے منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔لیبر حکومت نے واضح طور پر اٹلی کے البانیہ کے ساتھ معاہدے میں دلچسپی ظاہر کی ہے جس کے تحت تارکین وطن کو حراست میں لیا جا سکتا ہے۔قبرص نے شامی درخواست دہندگان کی پناہ کی درخواستوں کی کارروائی کو معطل کر دیا ہے۔یورپی یونین میں سیاسی پناہ کی جامع پالیسی کا معاہدہ طے پایا تھا جس کا مقصد سیاسی پناہ کے قانون میں اصلاحات اور ریاستوں پر بوجھ کو کم کرنا ہے۔یورپی یونین کے 27 رکن ممالک گزشتہ آٹھ برسوں سے سیاسی پناہ کے قوانین کے بارے میں مذاکرات کر رہے تھے۔دس اپریل کو یورپی پارلیمان نے یورپی یونین میں سیاسی پناہ کے طریقہ کار میں بنیادی اصلاحات کا فیصلہ کیا۔ نئے قوانین کے نفاذ میں دو سال لگیں گے۔