نوجوان مسلم نمائندے و علماء سرگرم ، کرناٹک طرز پر متحدہ ووٹوں کے استعمال کی ترغیب کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے
حیدرآباد۔یکم۔نومبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ میں یونائیٹڈ مسلم فورم کے مقابلہ میں نئے فورم یا محاذ کی تشکیل عمل میں لائی جانے والی ہے! ریاست کے مسلمانوں کی تائید کے معاملہ میں روایتی انداز میں یونائیٹڈ مسلم فورم کے نمائندوں کے فیصلہ سے اتفاق نہ رکھنے والے نوجوان مسلم نمائندوں و علماء پر مشتمل نئے فورم یا محاذ کی تیاری کی جا رہی ہے! طویل مدت سے سیاسی سرگرمیوں سے دوری اختیار کئے ہوئے بزرگ عمائدین ملت اور ذمہ داران کی نگرانی میں جلد ہی ایک نئے محاذ کی تشکیل کے سلسلہ میں اجلاس منعقد کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں جو کہ مسلمانوں کی روایتی انداز میں کسی ایک سیاسی جماعت کی تائید کے بجائے مسلمانوں کے مسائل کو نظر میں رکھتے ہوئے مسلمانوں کو مستقبل کے حالات سے چوکنا کرنے اور انہیں منظم انداز میں کرناٹک کے طرز پر متحدہ ووٹوں کے استعمال کی ترغیب دینے کے لئے کام کرے گا۔ ذرائع کے مطابق موجودہ یونائیٹڈ مسلم فورم کی جانب سے مجوزہ اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کو بھارت راشٹرسمیتی کے حق میں ووٹ کے استعمال کی ترغیب دیئے جانے اور بی آر ایس اور مجلس کی تائید کے امکانات کا جائزہ لینے کے بعد اس نئے محاذ کی تیاری کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ گذشتہ 9 برسوں کے دوران ریاست میں برسراقتدار بی آر ایس کی جانب سے مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں پر عمل نہ کئے جانے کی شکایت عام ہوچکی ہے اور گذشتہ انتخابات میں بی آر ایس کی تائید سے قبل یونائیٹڈ مسلم فورم نے بی آر ایس کی تائید کے ساتھ شرائط و مطالبات بھی پیش کئے تھے لیکن ان پر عمل آوری نہ کئے جانے پر اختیار کی گئی خاموشی کو دیکھتے ہوئے ایک نئے محاذ و فورم کی ضرورت محسوس کی جار ہی ہے ۔ اسمبلی انتخابات مسلم رائے دہندوں کا رجحان کانگریس کے حق میں متحدہ طور پر دیکھا جانے لگا ہے اور جلد ہی مسلم تنظیموں کے نمائندہ ذمہ داروں کا ایک فورم تشکیل دیتے ہوئے ریاست میں کانگریس کے حق میں انتخابی مہم چلانے کے اقدامات کئے جانے کی توقع ہے اور کہا جا رہاہے کہ موجودہ حکومت کی ناکامیوں اور مسلمانوں کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں پر مشتمل پمفلٹس عوام میں تقسیم کئے جائیں گے اور حکومت کی جانب سے اقتدار حاصل کرنے سے قبل کئے گئے وعدوں پر عدم عمل آوری اور مسلمانوں کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے متعلق حکومت کی لاپرواہی کو پیش کرتے ہوئے ریاستی حکومت کے خلاف مہم چلائی جائے گی۔