یوپی حکومت 3 دن میں جواب دے: سپریم کورٹ

,

   

lتوڑ پھوڑ کی کارروائی قانونی طریقہ کار کے مطابق کرنی چاہیے
lحکم التوا جاری کرنے سے انکار ‘ جمعیۃ العلماء ہند کی درخواست کی سماعت
بلڈوزرکارروائی

نئی دہلی :بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کے متنازعہ بیان پر ہوئے تشدد میں یوپی حکومت کی کارروائی کو لے کر جمعرات کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ کے جسٹس بوپنا اور وکرم ناتھ کی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔ سماعت مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے اترپردیش حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے یوپی حکومت کو 3 دن میں جواب داخل کرنے کی بھی ہدایت دی۔ نوٹس میں سپریم کورٹ نے حکومت اتر پردیش سے پوچھا ہے کہ کیا بلڈوزر کارروائی قانونی عمل کے تحت کی گئی ہے یا نہیں؟ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے یوپی حکومت سے واضح طور پر کہا کہ کوئی بھی توڑ ھوڑ کی کارروائی قانون کے طریقہ کار کے مطابق کرنی چاہیے۔ رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ یہ انتقامی کارروائیاں ہیں، یہ صحیح یا غلط ہوسکتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے کہا کہ کہ اس مدت کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ سی یو سنگھ نے جمعیت العلماء ہند کی طرف سے بحث کی۔سی یو سنگھ نے کہا کہ اتر پردیش میں انہدامی کارروائی جاری ہے۔ وزیراعلیٰ سے لے کر پولیس کے اعلیٰ افسران تک اس حوالے سے بیانات دے چکے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ یوپی میں لوگوں کو پتھرباز، غنڈہ کہہ کر گھر گرائے جا رہا ہیں۔ سپریم کور ٹ نے کہا کہ ایسی مسماری صرف ایکٹ کے مطابق ہو سکتی ہے۔ ہم اگلے ہفتے اس معاملے کی سماعت کریں گے۔ سپریم کورٹ نے آج جمعیت علمائے ہند کی طرف سے دائر ایک عرضی کی سماعت کی، جس میں اتر پردیش کے حکام کو ہدایت دینے کی مانگ کی گئی تھی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ریاست میں جائیدادوں کا مزید انہدام مناسب کارروائی کے بغیر نہ کریں۔ جاوید پمپ کے مکان کو منہدم کیا گیا ۔ گزشتہ جمعہ کو علاقے میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی پرتشدد جھڑپوں کا مبینہ مشتبہ ماسٹر مائنڈ بتائے جارہے ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ نے ان کارروائیوں پر حکم التوا جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ ایڈوکیٹ سی یو سنگھ نے کہا کہ اس کی وجہ جو لوگ احتجاج کے دوران تشدد میں شامل ہوئے ان کے خلاف ایکشن لیا جا رہا ہے۔ ایسا تو ایمرجنسی میں، یا آزا دی سے پہلے بھی نہیں ہوا تھا۔ یہ مکانات گزشتہ 20 برسوںسے کھڑے ہیں اور کچھ معاملوں میں تو مکانات ملز مین کے نام نہ ہو کر ان کے بوڑھے والدین یا دیگر ارکان خاندان کے نام پر درج ہیں۔‘