یہ مودی حکومت نہیں ‘ امبانی اور اڈانی کی حکومت ہے : راہول گاندھی

,

   

٭ سارے ملک میں کہیں نفرت نہیں۔ صرف ٹی وی پر دکھائی جاتی ہے
٭ بھارت جوڑو یاترا کا مقصد نفرت کے بازار میں محبت کی دوکان کھولنا ہے
٭ یاترا دارالحکومت دہلی پہونچی ۔ سونیا و پرینکا گاندھی اور کمل ہاسن بھی شریک

نئی دہلی : کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے آج بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مذہبی اختلافات کو ہتھیار کی طرح استعمال کرتے ہوئے نفرت پھیلا رہی ہے ۔ انہوں نے لال قلعہ پر بھارت جوڑو یاترا کے توقف پر خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔ لال قلعہ پر خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ حقیقی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے چوبیس گھنٹے ہندو ۔ مسلم نفرت پھیلائی جا رہی ہے ۔ سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی نے بھی آج یاترا میں حصہ لیا ۔ بعد ازاں اداکار کمل ہاسن بھی اس میں شامل ہوگئے ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ وہ اب تک 2,800 کیلومیٹر کا سفر کرچکے ہیں لیکن انہوں نے کہیں نفرت نہیں دیکھی ۔ جب وہ ٹی وی دیکھتے ہیں تو تاہم انہیں تشدد نظر آتا ہے ۔ آج اس مرحلہ میں ان کی یاترا کا آخری دن ہے ۔ راہول گاندھی اور ان کی ٹیم نو دن کا بریک لے گی جس کے بعد یاترا دوبارہ شروع ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا حالانکہ دوست ہے لیکن وہ حقیقت نہیں دکھاتا جو ہم کہتے ہیں کیونکہ میڈیا پر پس پردہ دباؤ ہے ۔ تاہم یہ ملک ایک ہے اور ہر کوئی یکجہتی سے رہنا چاہتا ہے ۔راہول گاندھی نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نریندر مودی کی حکومت نہیں ہے ۔ عوام کا سارا پیسہ ‘ کسانوں اور مزدوروں کا پیسہ ‘ ائرپورٹس ‘ بندرگاہیں اور سڑکوں کا پیسہ سیدھے حکومت کے آقاوں کی جیب میں جا رہا ہے ۔ یہ امبانی اور اڈانی کی حکومت ہے ۔ حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے ہندو ۔ مسلم نفرت پھیلائی جا رہی ہے ۔ آج ڈگری یافتہ نوجوان پکوڑے بیچ رہے ہیں۔ اداکار سے سیاستدان بننے والے کمل ہاسن نے کہا کہ ابتداء میں لوگ ان سے کہتے تھے کہ بھارت جوڑو یاترا میں شرکت یا راہول گاندھی کے ساتھ چلنا سیاسی غلط ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے خود سے سوال کیا کہ اب وقت ہے کہ ملک کو ان کی ضرورت ہے ۔ ان کے ضمیر نے آواز دی کہ بھارت توڑنے کی نہیں بلکہ جوڑنے کی مدد کرنی چاہئے ۔ کمل ہاسن نے کسی سیاسی اتحاد کی بات نہیں کی ۔ بھارت جوڑو یاترا آج دہلی پہونچ گئی جس میں ہزاروں افراد نے حصہ لیا ۔ مرکزی وزیر صحت نے تاہم اس بات پر زور دیا کہ کورونا قواعد کی پابندی کی جانی چاہئے ۔ آج کی یاترا میں اداکار سے سیاستدان بننے والے کمل ہاسن نے بھی راہول گاندھی کی یاترا میں شمولیت اختیار کی ۔ کئی پارٹی قائدین بشمول جئے رام رمیش ‘ پون کھیڑا ‘ بھوپیندر سنگھ ہوڈا ‘ کماری شیلجا اور رندیپ سرجیوالا بھی راہول کے ساتھ مارچ کرتے دکھائی دئے ۔ بعد ازاں سابق کانگریس صدر سونیا گاندھی اور پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی بھی یاترا میں شامل ہوگئیں۔ ماہ اکٹوبر میں بھی سونیا گاندھی نے کرناٹک میں یاترا میں شرکت کی تھی ۔ بھارت جوڑو یاترا آج صبح فرید آباد سے دہلی میں داخل ہوئی ۔ دہلی کانگریس کے صدر انیل چودھری نے راہول گاندھی اور دوسرے قائدین کا بدرپور سرحد پر’ راہول گاندھی زندہ باد ‘ کے نعروں کی گونج میں خیرمقدم کیا ۔ پارٹی ورکرس و قائدین سے خطاب میں راہول گاندھی نے اعادہ کیا کہ اس یاترا کا مقصد محبت کی دوکان نفرت کے بازار میں کھولنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا عام آدمی ہر ریاست میں محبت کی بات کر رہا ہے ۔ کئی ریاستوںمیں لاکھوں افراد نے یاترا میں شرکت کی ہے ۔ انہوں نے عوام سے کہا ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی سے ہم لڑائی کر رہے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ نفرت کے بازار میں محبت کی دوکان کھولی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اس یاترا کا ایک اور مقصد حقیقی ہندوستان دکھانا ہے جہاںلوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ آر ایس ایس اور بی جے پی نفرت پھیلاتے ہیں اور کانگریس محبت کو فروغ دیتی ہے ۔ قبل ازیں وزیر صحت منسکھ مانڈویا نے راہول کو مکتوب روانہ کرکے کہا تھا کہ بھارت جوڑو یاترا کے دوران کووڈ قواعد پر عمل کیا جائے ۔ راہول گاندھی نے وزیر اعظم کی جانب سے گجرات میں چلائی گئی انتخابی مہم اور راجستھان میں جن آکروش یاترا کا حوالہ دیا اور کہا کہ بی جے پی کئی ریاستوں میں یاترائیں نکال رہی ہے لیکن وزیر صحت صرف انہیں مکتوب روانہ کر رہے ہیں۔ کانگریس کا الزام ہے کہ بی جے پی چاہتی ہے کہ راہول گاندھی کی یاترا کو روکا جائے کیونکہ بی جے پی کو اس یاترا سے خوف محسوس ہونے لگا ہے ۔ آج کی یاترا لال قلعہ پر شام میں ختم ہوئی ۔ اس یاترا نے 16 ڈسمبر کو اپنے 100 دن مکمل کرلئے ہیں اور نو دن بریک کے بعد 3 جنوری کو دہلی سے دوبارہ شروع ہوگی ۔ یہ یاترا 7 ستمبر کو کنیاکماری سے شروع ہوئی تھی اور کشمیر میں ختم ہوگی ۔ اب تک یاترا ہریانہ ‘ ٹاملناڈو ‘ کیرالا ‘ آندھرا پردیش ‘ کرناٹک ‘ تلنگانہ ‘ مہاراشٹرا ‘ مدھیہ پردیش و راجستھان سے گذر چکی ہے ۔