عوام کو راحت رسانی میں سیاست
ملک میں سیاسی جماعتوں کے مابین اختلافات کوئی نئی بات نہیں ہیں ۔ یہ سیاسی اختلاف ہی ہے جس کے نتیجہ میں جمہوریت کو استحکام اور تقویت حاصل ہوتی ہے
ملک میں سیاسی جماعتوں کے مابین اختلافات کوئی نئی بات نہیں ہیں ۔ یہ سیاسی اختلاف ہی ہے جس کے نتیجہ میں جمہوریت کو استحکام اور تقویت حاصل ہوتی ہے
مرکزی حکومت کی جانب سے ہر گوشے میںاظہار خیال کی آزادی پر پابندیاں عائد کرنے کا ایک سلسلہ سا شروع ہوچکا ہے ۔ ہر گوشے پر گرفت بنائے رکھنے کیلئے
زندگی پھر زندگی ہے بزم جاناں ہے تو کیاعشق کو اندیشہ سوز و زیاں ہونا ہی تھاکروڑہا ملازمتوں کا نقصانملک میں گذشتہ کئی برسوں سے ملازمتیں فراہم کرنے کے رجحان
گذشتہ سال جس وقت سے ملک میں کورونا وائرس نے ہندوستان میںاپنا اثر دکھانا شروع کیا تھا اس وقت سے ہی حکومتوں کی جانب سے اس سے نمٹنے کیلئے کوئی
ہندوستان کی معیشت گذشتہ سات برسوں میں مسلسل گراوٹ کا شکار ہے اور ملک کی جی ڈی پی ( جملہ گھریلو پیداوار ) اب تو منفی 7.3 فیصد تک چلی
آئے تھے بزم ناز میں کیا کیا سمجھ کے ہماٹھے تو ساتھ ہجر کے دن رات لے چلےبغاوت کے مقدمات اور عدلیہہندوستان میں اکثر دیکھا جا رہا ہے کہ جو
بات بھی تشنہ رہی الفاظ بھی مبہم رہےعہد و پیمانِ نظر لیکن بڑے محکم رہےاقتدار کے 7 سال ‘ مودی کے دعوےنریندرمودی نے مرکز میں اقتدار کے اپنے سات سال
سائیکلون پر سیاستہندوستان ہو یا پھر ساری دنیا میں جب کبھی کوئی بحران کی کیفیت پیدا ہوتی ہے یا پھر کوئی آفت آتی ہے تو سیاست اور اختلافات کو بالائے
امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز نے جو رپورٹ شائع کی ہے اس نے سارے ملک میں سنسنی پیدا کردی ہے ۔ امریکی اخبار کا دعوی ہے کہ ہندوستان کی نصف
عصر حاضر میںسوشیل میڈیا کی اہمیت اور افادیت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ ان میڈیا پلیٹ فارمس پر عوامی شعور بیداری اور رائے عامہ کے اظہار کو
یوگا گرو کہلائے جانے والے رام دیو اکثر و بیشتر اپنے تبصروں اور ریمارکس کی وجہ سے تنازعات میں گھرے رہتے ہیں۔ بے سر و پیر کی باتیں کرنے کے
دو دن قبل بی جے پی اور آر ایس ایس کے قائدین کا ایک اجلاس دہلی میں منعقد ہوا جس میں اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا
ایک دن پوچھتی پھرے گی حیاتاہلِ دل کِس نگر میں رہتے ہیںبی جے پی کو یو پی انتخابات کی فکرسارے ملک میں کورونا سے عوام پریشان ہیں۔ کہیں لوگ دواخانوں
گذشتہ تقریبا ایک سال سے سرخیوں میں رہنے والی ریاست مغربی بنگال میں ایسا لگتا ہے کہ سیاسی پہئیہ ایک بار پھر سے گھوم رہا ہے ۔ گذشتہ ایک سال
اسرائیل ۔ حماس جنگ بندیمسلسل گیارہ دن تک اسرائیل کی جارحیت اور وحشیانہ کارروائی کے بعد اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی بالآخر ہوگئی ہے ۔ تاہم یہ جنگ
کورونا کی وباء نے ساری دنیا کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے ۔ ہر ملک میں ہزاروں افراد کی موت واقع ہوئی ہے اور لاکھوں افراد اس سے متاثر
ہندوستان میں یہ روایت رہی ہے کہ یہاں ہر مسئلہ پر چاہے وہ کتنا ہی اہمیت کا حامل نہ رہے سیاست کی جاتی ہے ۔ ہر جماعت اپنے اپنے طور
کورونا کیسوں کے معاملہ میںہندوستان دنیا بھر میں سب سے آگے ہوتا جا رہا ہے ۔ ویسے بھی ہندوستان کی آبادی کے اعتبارسے کیسوں میںاضافہ درج کیا جا رہا ہے
کورونا وائرس نے ملک کے تمام بڑے شہروں کو تہس نہس کردینے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ملک کے دیہی علاقوں کا رخ کیا ہے اور وہاں صورتحال انتہائی
روح شکستہ دل ناکامہائے محبت کا انجام مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے مکمل ہوتے ہی سی بی آئی اور دیگر مرکزی ایجنسیاں وہاں سرگرم ہوگئی ہیں اور ایک بار پھر