مذہبی صفحہ

بیعت اور خلافت کی شرعی حیثیت

کتاب و حکمت کی تعلیم اور تزکیہ نفوس ، رسالت و نبوت کے بنیادی مقاصد ہیں ۔ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’بیشک اﷲ تعالیٰ نے مومنین پر احسان

آداب کہنے سےمسنون سلام ادا نہیں ہوتا

سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںکہ بعض لوگ ’’ السلام علیکم‘‘ کہتے ہیں اور بعض’’ سلام علیکم‘‘ کیا دونوں طر یقے صحیح ہیں ؟ ان میں سے

حضرت حافظ سید عبداﷲ شاہ قادریؒ

سید محمد الحسینی قادریقطب دکن حضرت حافظ سید عبداﷲ شاہ قادری شہید قدس سرہ العزیز شیخ الشیوخ حافظ سیدنا شجاع الدین حسین قادری قدس سرہ العزیز کے خلف صاحبزادے تھے۔

’’قرآن ،خدا کا تعارف ہے‘‘

ایم۔ اے لطیفپہلی وحی۔’’ اعلان کرواپنے رب کے نام سے جس نے تخلیق کی اور انسان کی بھی اور انسان کو قلم سے لکھنا سکھایااور انسان کو وہ علم سکھایا

قرآن و اہل بیت

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رضي اللہ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي اللہ عليه وآله وسلم : إِنِّي تَارِکٌ فِيْکُم مَا إِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِهٖ لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدِي أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ

کلامِ نبویؐ کی بلاغت و جامعیت

نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کی فصاحت و بلاغت اور آپ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کا اُسلوب بیان ، فیضان الٰہی اور وحی

حضرت سیدنا امام زین العابدین ؓ

ابوزہیر سید زبیر ہاشمی نظامینام : علی، کنیت ابوالحسن اور لقب زین العابدین ۔ آپ حضرت سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کے چھوٹے فرزند تھے۔اہل بیت اطہار رضی اﷲ

اس گھرانے میں سبھی سرکار ہی سرکار ہیں

سلمہ محمداموی حکمران عبدالملک بن مروان کا دور حکومت ہے، حج کے ایام ہیں اورصحن کعبہ میں ہجوم کا یہ عالم کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں۔ اس سال ہشام

واقعہ کربلا کا خاص پہلو

مرسل : ابوزہیر نظامیحضرت سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کی بے مثال شخصیت کے عظیم کردار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپؓ جو قربانی پیش

حضرت خواجہ مخدوم حسین چشتی ناگوریؒ

صوفی مظفر علی چشتی ابوالعلائی حضرت شیخ خواجہ مخدوم حسین چشتی ناگوری ؒحضرت خالد چشتی ؒکے صاحبزادے اور سلطان التارکین صوفی حمید الدین ناگوری ؒکے چھٹی پشت میں پوتے ہیں۔

خون ِحسینؓ نے اچھائی کو سربلندی عطا کی

آصف سیدحضور نبی کریم ﷺپوری نسل انسانی کیلئے رسول بناکر بھیجے گئے، آپؐ کی جانفشانی اور انتھک کوششوں کے نتیجے میں دین اسلام ایک مختصر سے عرصہ میں عرب کے

’’میرا بیٹا شہید کر دیا جائے گا‘‘

٭ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلى الله عليه و آلہٖ وسلم آپ ؓکے ہاں سوئے ہوئے تھے، اور شہزادہ حسینؓ