شمس الشموس محی النفوس الامام حبیب عبداﷲ العیدروس الأکبر
مولانا حبیب سہیل بن سعید العیدروس ہر صدی میں نبوی دور کے بعد علوم و معارف نبویﷺ کی ترویج اور اس کی نشوو ونما کیلئے دستِ قدرت کے شاہکار علماء
مولانا حبیب سہیل بن سعید العیدروس ہر صدی میں نبوی دور کے بعد علوم و معارف نبویﷺ کی ترویج اور اس کی نشوو ونما کیلئے دستِ قدرت کے شاہکار علماء
حافظ سید شاہ مدثر حسینی آپ کا نام حضر ت خد یجہ ؓ ہے نبی کریمﷺ کے اِعلانِ نبوت سے قبل وہ عفت و پاکدامنی کے باعث عہدِ جاہلیت میں
یقیناً اللہ نے خرید لی ہے ایمانداروں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس عو ض میں کہ ان کے لئے جنت ہے… (سورۃ التوبہ :۱۱۱) ہماری جانیں اسی
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي اللہ عنه قَالَ : خَرَجَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي اللہ عليه وآله وسلم فَإِذَا أُنَاسٌ فِي رَمَضَانَ يُصَلُّوْنَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ : مَا هَؤُلَاءِ؟ فَقِيْلَ :
روزہ کو عربی میں صوم کہتے ہیں اور صوم کے معنیٰ ہیں ’’کسی چیز سے رُکنا اور اُسے چھوڑ دینا‘‘ (لسان العرب‘ تاریخ العروس) اصطلاح شریعت میں اس کا مطلب
بے سوالی کی روح یہ ہے کہ آدمی بے نیاز رہے، کسی پر ذرا بھی بوجھ نہ بنے، کسی کو زحمت نہ دے، کسی پر بار نہ بنے۔ حضرت پیران
مرسل : ابوزہیر نظامی روزہ نہ ٹوٹنے کی پانچ صورتیں : (۱) اگر روزہ یاد نہ ہو اور بھول کر کچھ کھا پی لے یا جماع کرے ۔ (۲) بے
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پہلے دہے کا اختتام میں آخر دو رکعتوں میں ایک حافظ صاحب سورہ ٔاخلاص سے پہلے ’’ بسم اﷲ
رمضان المبارک کا حقیقی استقبال یہ ہے کہ اس مبارک مہینہ میں اپنی مصروفیات و مشغولیات سے وقت کو فارغ کرنے کانظام بنائیں کیونکہ دنیا میں کوئی کام بغیر نظام
ڈاکٹر محمد سراج الرحمن اسلام واحد آسمانی مذہب ہے جس نے انسانی زندگی کی ہر موڑ پر زندگی گذارنے کا طریقہ سکھایا ہے، قرآن پاک میں خالق کائنات نے جن
عبدالسبحان خان ارشاد رب العلمین ہے ’’رمضان المبارک کا مہینہ ایسا بابرکت ہے کہ جس میں قرآن حکیم نازل ہوا جو لوگوں کارہنما ہے اور اس میں ہدایت و امتیاز
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں اپنی بندگی کیلئے بھیجا ہے۔ انسان یہاں چند روز کا مہمان ہے۔ اپنی مدت مکمل ہونے کے بعد اگلے سفر پر روانہ
محمد خورشید اختر صدیقی (بیدر) رمضان المبارک کا مہینہ اﷲ رب العزت کی رحمتوں و برکتوں کاخزینہ ہے ۔ یہ وہ مہینہ ہے جس کو پانے کیلئے نبی علیہ الصلوٰۃ
شعبان کا متبرک مہینہ اختتام پذیر ہے اور رمضان المبارک کی آمد کا بے چینی سے انتظار ہے ۔ رمضان المبارک درحقیقت اہل ایمان کے لئے تربیتی نظام اور Training
معرفت کا ایک تقاضا ہے اور وہ ہے ’’مراقبۂ حضور و شہود‘‘۔ یہ مراقبہ تصوف و طریقت کی روح ہے، یہ کلید طریقت ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’اور
مرسل : ابوزہیر نظامی ماہِ رمضان المبارک ۱۴۴۰ھ کی آمد آمد ہے۔ اس کا استقبال و انتظار، باادب ہوکر کریں، تو یقینا بندۂ مومن آنے والے ماہ کو کامیابی کے
ہم جس عالم میں رہتے ہیں یہ عالم دنیا ہے جو ایک مادی عالم ہے یہ مادی عالم فانی ہے، جو ایک دن فنا ہونے والا ہے۔ اس مادی عالم
رمضان المبارک میں نفل عبادت کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر گنا زیادہ عطا کیا جاتا ہے۔ اس ماہ مبارک میں دن میں روزے رکھے جاتے
حافظ محمد عبدالمقتدر رمضان کا مہینہ اصلاح و تربیت کا نہایت ہی بہترین اور خوشگوار ماحول پیش کرتا ہے ۔ عوام و خواص کی کثیرتعداد مشترکہ طورپر مسجدوں اور اصلاحی
اے ۔ اے ۔ خان ٭ فرض روزوں کا اہتمام کریں، کیونکہ اگر سال بھر بھی روزہ رکھیں گے تو رمضان کے روزوں کا ثواب نہیں ملے گا۔ ٭ شرعی