خلیفۂ سوم کا صبر واستقلال ہر وقت بے مثال
شہادت : ۱۸؍ ذی الحجہ ۳۵ ہجریابوزہیر حافظ سید زبیرھاشمی نظامینام : عثمان، والدکانام : عفان،کنیت : ابو عبد اﷲحضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ تیسرے خلیفۂ
شہادت : ۱۸؍ ذی الحجہ ۳۵ ہجریابوزہیر حافظ سید زبیرھاشمی نظامینام : عثمان، والدکانام : عفان،کنیت : ابو عبد اﷲحضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ تیسرے خلیفۂ
حافظ صابر پاشاہ اسلامی تاریخ کے آسمان پر بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی عظمت، کردار اور خدمات رہتی دنیا تک انسانیت کیلئے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔ ان ہی
عبداللہ محمد عبداللہ خلیفۂ سوم امیرالمؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُموی قریشی ( ۴۷ قبل ہجری ۔۳۵ہجری ) داماد رسول، اور جامع القرآن تھے۔ حضرت عثمان غنیؓکامل
اور پورا کرو حج اور عمرہ اللہ (کی رضا) کے لیے پھر اگر تم گھر جاؤ تو قربانی کا جانور جو آسانی سے مل جائے (وہ بھیجدو) اور نہ منڈاؤ
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بھی مسلمان وقوفِ عرفہ کی رات قبلہ رُخ کھڑا ہو کر سو
قربانی کی قبولیت اور تقوی و پرہیزگاری کی اہمیتخلت ابراہیمی اور محبت مصطفوی کی جلوہ نمائی ذوالحجہ کی ابتداء کے ساتھ ہی ہمارے ذہن و دماغ میں قربانی، جاں نثاری
شیخ احمد حسین عَرَفَہ، ماہ ذوالحجہ کے نویں دن کو کہا جاتا ہے جس کی دین اسلام میں بہت اہمیت ہے لہٰذا اس مناسبت سے تاریخ اسلام میں کثیر تعداد میں
ڈاکٹر محی الدین حبیبیحضرت خواجہ حبیب علی شاہ ۲۰ جمادی الثانی ۱۲۳۶ ہجری کو بوقت چاشت چمن زارِ ہستی میں جلوہ افروز ہوئے ۔ آپؒ کا سلسلہ جدی حضرت عبدالغفور
ڈاکٹر سید عارف پاشاہ قادریسلطان الفقراء حضرت سید شاہ عبد اللّطیف لااُبالی قدس سرہٗ کا شمار ہندوستان کے اولیائے اکابرین میں ہو تا ہے۔ جن کی اولاد میں اور اہلِ
سید خلیل احمد ہاشمیآپ کا اسم گرامی محمد زماں خاںکنیت ابورجا مشہور القاب مولوی زماں خاں شہید صاحب غنیمۃ الاسلام قدوۃ العلماء‘ زبدۃ الفصحاء اتالیق السلاطین ہے ۔ آپ کے
دکن کو اولیاء کرام کا شہر کہا جاتا ہے۔ کیونکہ یہاں کافی تعداد میں اولیاء اور صوفیاء کے مزارات ہیں۔ یہ اولیا کرام کی سرزمین ہے، جنھوں نے یہاں محبت،امن
وہی تو ہے جس نے پیدا کیا تمہارے لئے جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب پھر توجہ فرمائی اُوپر کی طرف تو ٹھیک ٹھیک بنادیا اُنھیں سات آسمان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنهما أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ ﷲِ صلی اللہ عليه وآله وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيْفُ رَسُوْلِ ﷲِ صلی اللہ عليه
حج کے لغوی معنی قصد و ارادہ کے ہیں، اصطلاح شریعت میں بیت اللہ شریف کا طواف، منٰی، وقوف عرفات و مزدلفہ، صفا مروہ کی سعی اور دیگر مناسک حج
ابوزہیر حافظ سید زبیر ہاشمی نظامیگزشتہ سے پیوستہ … طبرانی اور بیہقی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سرور عالم صلی اللہ
حضرت علامہ مولانا سید محمد شاہ قطب الدین حسینی صابری قدس اللہ سرہ العزیز ‘سجادہ نشین رابع ‘بارگاہ حضرت سید شاہ معین الدین حسینی المعروف بہ شاہ خاموش صاحب قبلہ
حافظ صابر پاشاہ وَالْفَجْرِ o وَلَيَالٍ عَشْرٍ o وَالشَّفْـعِ وَالْوَتْرِ oقسم ہے صبح صادق کی ،دس راتوں کی اور جفت کی اور طاق کی۔(سورۃ الفجر) ماہِ ذوالحجۃ الحرام اسلامی اعتبار
سوال : زید سعودی عرب میں ملازم ہے۔ بقرعید کے چھٹیوں میں زید گزشتہ سال جب اپنے گھر حیدرآباد آیا تو ذی الحجہ کے پہلے ہفتہ میں مکہ مکرمہ گیا
کیونکر تم انکار کرتے ہو اللہ کا حالانکہ تم مُردہ تھے اُس نے تمہیں زندہ کیا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا پھر اسی کی طرف تم
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي اللہ عنه، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي اللہ عليه وآله وسلم : مَنْ حَجَّ هٰذَا الْبَيْتَ، فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ کَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهٗ. مُتَّفَقٌ