آئی سی یو میں کورونا مریضوں کی صحت یابی، نظام آباد سرفہرست

   

کلکٹر فنڈ سے بھاری ادویات کا حصول، اضلاع میں طبی خدمات میں بہتری
حیدرآباد : تلنگانہ کے سرکاری دواخانوں میں آئی سی یو میں شریک مریضوں کی صحت یابی کے معاملہ میں نظام آباد گورنمنٹ ہاسپٹل میں دیگر ہاسپٹلس کے مقابلہ بہتر مظاہرہ کیا ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران نظام آباد گورنمنٹ جنرل ہاسپٹل میں تقریباً 109 مریض جو آئی سی یو میں تھے، صحت یاب ہوگئے۔ ان میں سے 50 مریض وینٹی لیٹر پر تھے جو موت کو شکست دیتے ہوئے ڈاکٹروں کی بہتر نگہداشت کے نتیجہ میں صحت یاب ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 10 دن سے زائد تک وینٹی لیٹر پر رہنے کے باوجود یہ مریض صحت یابی کے طرف گامزن ہوگئے اور آئی سی یو میں شریک مریضوں کی صحت یابی کی شرح 90 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ہاسپٹل کے اعداد و شمار کے مطابق کورونا کے مریضوں کی ریکوری کا فیصد 40 ہے جو دیگر سرکاری دواخانوں کے مقابلہ میں دوگنا ہے۔ ہاسپٹل میں آئی سی یو کے انچارج ڈاکٹر ایم کرن نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے 30,000 اور 12,000 روپئے مالیتی انجیکشن اور ٹیبلیٹس ہر مریض کے لئے سربراہ کئے گئے جس کے نتیجہ میں صحت یابی کی شرح میں اضافہ ہوا۔ ضلع کلکٹر کے فنڈ سے یہ مہنگی ادویات خریدی گئیں۔ ہاسپٹل میں سوپر اسپیشالیٹی یونٹ کی عدم موجودگی کے باعث سنگین مریضوں کو گاندھی ہاسپٹل روانہ کیا گیا۔ صحت یاب ہونے والے مریضوں میں سے کسی نے بھی ڈسچارج ہونے کے بعد دوبارہ طیبعت خراب ہونے کی شکایت نہیں کی ہے۔ ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ مریضوں کی ریکوری میں ڈاکٹرس اور مریضوں کا پر عزم اور پر اعتماد ہونا اہمیت کا حامل ہے ۔ بودھن سے تعلق رکھنے والے ایک 48 سالہ مریض کو 10 دن تک وینٹی لیٹر پر رکھا گیا جس کے بعد وہ صحت یاب ہوئے ہیں۔ اسے ایک ماہ تک آرام کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ ہاسپٹلس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں نے ڈاکٹرس کی خدمات کی ستائش کی ہے۔ ضلع میں کورونا کے جملہ 2028 کیسیس درج کئے گئے ، ان میں ہوم آئسولیشن کے ایکٹیو کیسیس کی تعداد 1218 ہے جبکہ ہاسپٹل میں 20 ایکٹیو کیسیس زیر علاج ہیں۔ ہوم آئسولیشن سے 310 مریض صحت یاب ہوئے جبکہ ہاسپٹل سے 233 مریضوں کے صحت یاب ہونے کی اطلاع ہے۔ ضلع میں کورونا سے 47 اموات واقع ہوئی ہیں۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں کا ماننا ہے کہ عوام کو سرکاری دواخانوں کی کارکردگی پر بھروسہ کرنا چاہئے ۔ شہر اور اضلاع میں حکومت نے گورنمنٹ ہاسپٹلس میں کورونا کی بہتر طبی خدمات کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے ہیں۔