سرکاری بینک قومی اثاثہ، فروخت کا فیصلہ ملازمین اور عوام کے مفادات کے مغائر
نئی دہلی، 30 اکتوبر (ایجنسیز) آئی ڈی بی آئی بینک کی مجوزہ نجکاری کے معاملے پر کانگریس اور مرکزی حکومت کے درمیان سیاسی محاذ آرائی شدت اختیار کرگئی ہے۔ لوک سبھا کے قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے مرکزی حکومت کے فیصلے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے بینک ملازمین سے اظہار یگانگت کیا اور کہا کہ عوامی سرمایہ سے قائم کئے گئے سرکاری بینک ملک کی صنعتی اور معاشی ترقی کے اہم ادارے ہیں، انہیں محض فروخت کئے جانے والے اثاثوں کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ راہول گاندھی نے آئی ڈی بی آئی بینک کے ملازمین کے نام ایک کھلے مکتوب میں کہا کہ گزشتہ سال مارچ میں بینک کے ملازمین نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ان سے ملاقات کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ جس بینک کو ملازمین نے مسلسل محنت کے ذریعہ منافع بخش بنایا، اسے حکومت فروخت کیوں کررہی ہے۔ انہوں نے اس مسئلہ کو لوک سبھا میں بھی اٹھایا تھا اور حکومت سے دریافت کیا تھا کہ بینک کی فروخت سے ملازمین اور کھاتہ داروں کے مفادات کا تحفظ کس طرح یقینی بنایا جائے گا۔ راہول گاندھی نے اندیشہ ظاہر کیا کہ بینک کی نجکاری کے بعد درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کے امیدواروں کو حاصل تحفظات کے مواقع متاثر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کے ملازمتی تحفظ اور خدمات کی شرائط پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق کانگریس ایک ایسے مضبوط عوامی شعبہ کی حامی رہی ہے جو خانگی شعبہ کے ساتھ مل کر قومی ترقی میں حصہ لے۔ کانگریس لیڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ کانگریس دور میں صنعتی ترقی کے لئے مالیاتی ادارے اور بینک قائم کئے گئے، جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں ایسے اداروں کو فروخت کیا جارہا ہے۔