اسی دولت سے میرا گھر بنا تھا!
اسی دولت سے ٹکڑے ہوگیا ہے!
امریکہ اور ایران کے مابین ایک بار کشیدگی میںاضافہ ہوگیا ہے ۔ دونوںملکوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف مسلسل حملے بھی شروع ہوگئے ہیں ۔ امریکہ کی جانب سے ایران میںمختلف مقامات پر نشانے لگاتے ہوئے حملے کئے جا ریہ ہیں جبکہ ایران بھی خلیجی ممالک میں موجود امریکی ٹھکانوںپر حملے کر رہا ہے ۔ دونوں ملک ایک دوسرے پر عبوری یادداشت مفاہمت کی خلاف ورزی کا دعوی کر رہے ہیں اور اپنے اپنے حقوق کی بات کر رہے ہیں۔ جس وقت سے دونوںملکوں کے مابین معاہدہ ہوا تھا اسی وقت سے یہ اندیشے ظاہر کئے جا رہے تھے کہ اسرائیل اس معاہدہ کو سبوتاج کرنے کی کوشش ضرور کرے گا اور ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل اپنی ان کوششوں میں کامیاب ہوگیا ہے ۔ اس نے صدر ٹرمپ کو یہ یقین دہانی کروادی ہے کہ ایران انہیں قتل کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اس کے بعد سے ٹرمپ کے رویہ میں تبدیلی آگئی اور انہوں نے اچانک ہی اس معاہدہ کے ختم ہوجانے کا اعلان کردیا ۔ اب دونوں ملکوں کے مابین اصل تنازعہ کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز ہوگیا ہے ۔ یہاں کنٹرول حاصل کرنے کیلئے امریکہ اور ایران کی کوششیںتیز ہوگئی ہیں اور صدر ٹرمپ نے اچانک ہی کل اعلان کردیا کہ جو جہاز آبنائے ہرمز سے گذریں گے انہیں 20 فیصد تک شرحیں ادا کرنی ہونگی ۔ امریکہ کا دعوی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحفاظت آمد و رفت کو یقینی بنانے میں مدد کرے گا اسی لئے اسے 20 فیصد تک شرحیں ادا کی جانی چاہئیں ۔ دوسری جانب ایران نے ٹرمپ کے اس اعلان پر کہا کہ امریکہ کی عائد کردہ شرحیںبہت زیادہ ہیں جبکہ ایران کی جانب سے واجبی ٹول عائد کرتے ہوئے جہازوں کی آمد و رفت کی اجازت دی جائے گی ۔ ابھی ایران نے یہ اعلان نہیں کیا ہے کہ وہ ہرمز سے گذرنے والے جہازوں پر کتنا ٹول عائد کرے گا ۔ ایران کی پارلیمنٹ میں تاہم ایک بل پیش کردیاگیا ہے جس میںآبنائے ہرمز پر کنٹرول کی گنجائش ہے ۔ یہ تبدیلیاںحالات کو مزید پیچیدہ اور کشیدہ بنانے میں اہم رول ادا کر رہی ہیں۔
یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ٹرمپ نے اپنا داؤ کھیل دیا ہے ۔ انہوںنے ایران کے ساتھ جنگ ‘ پھر جنگ بندی ‘ پھر عبوری معاہدہ صرف اس لئے حاصل کیاتھا تاکہ انہیںاپنے حقیقی عزائم پر عمل آوری کیلئے وقت دستیاب ہوسکے ۔ انہوں نے جب اپنی تیاریاں مکمل کرلیں تو اچانک ہی معاہدہ ختم ہونے کا اعلان بھی کردیا اور اب ہرمز سے گذرنے والے جہاموں پر شرحیںعائد کرنے کا بھی اعلان کردیا ہے ۔ ٹرمپ کا یہ اعلان قابل قبول نہیں ہوسکتا جس طرح خود اقوام متحدہ نے بھی کہا ہے کہ یہ شرحیں قبول نہیں کی جاسکتیں۔ ٹرمپ کو آبنائے ہرمز پر کوئی کنٹرول نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس کے کنٹرول کا کوئی دعوی کرسکتے ہیں یا فوج متعین کرسکتے ہیں۔ یہ امریکی حدود سے باہر کی بات ہے ۔ ٹرمپ کو ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت معمول کے مطابق کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ دنیا بھر میں جو اندیشے توانائی بحران کے ظاہر کئے جا رہے ہیں انہیںدور کیا جاسکے ۔ سپلائی چین جو متاثر ہو کر رہ گئی ہے اس کو بحال کیا جاسکے ۔ بحری جہازوں پر جو حملے ہو رہے ہیں ان کا تدارک کیا جاسکے اور ان حملوں میں ملاحوں کے جانی نقصان کو بھی روکا جاسکے ۔ اس جانب کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے اور صرف اپنے مفادات و عزائم کی تکمیل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اقدامات کئے جا رہے ہیں جن کے نتیجہ میںدنیا بھر میں ایک بار پھر سے بے چینی کی کیفیت پیدا ہونے لگی ہے۔
ٹرمپ نے جس طرح سے ہرمز سے گذرنے والے جہازوں پر شرحیں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے اس سے ان کی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے کہ وہ ساری دنیا پر صرف اپنا کنٹرول چاہتے ہیں اور کسی کو بھی خاطر میں لانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ٹرمپ کا یہ اعلان عالمی معیشت کیلئے منفی اثر والا ہوسکتا ہے اور اس کے نتیجہ میں تیل کی قیمتوں میںاضافہ ہوسکتا ہے اور فیول اور ایندھن کی سپلائی متاثر ہوسکتی ہے ۔ ٹرمپ کے اس اقدام کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے اور علاقائی ممالک کو اس میں اہم رول ادا کرنا چاہئے ۔