تہران ۔ 4 مئی (ایجنسیز) ایران جنگ کے سبب تہران کی طرف سے بند کی گئی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے امریکی قیادت میں قائم کردہ نئی ٹاسک فورس نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے تحت اس فورس نے پیر 4 مئی کو اپنا کام شروع کیا۔ ایران جنگ کے سبب تہران کی طرف سے بند کی گئی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے امریکی قیادت میں قائم کردہ نئی ٹاسک فورس نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے تحت اس فورس نے پیر 4 مئی کو اپنا کام شروع کیا۔ امریکہ میں واشنگٹن اور خلیج فارس کے خطہ میں مختلف شہروں سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اس ٹاسک فورس نے اب خلیج فارس میں آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے مال بردار بحری جہازوں کے عملے کو یہ بتانا شروع کر دیا ہے کہ وہ اس آبنائے سے نکلنے کے لیے متبادل سفری راستے استعمال کریں۔ ساتھ ہی امریکہ کی قیادت میں قائم کردہ یہ ٹاسک فورس ان مال بردار بحری جہازوں کی انہیں اپنی حفاظت میں آبنائے ہرمز سے نکلنے میں مدد بھی کرے گی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کل اتوار تین مئی کو اعلان کیا تھا کہ ایک نئی ٹاسک فورس قائم کر دی گئی ہے، جو آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو وہاں سے نکلنے میں مدد دے گی، اور یوں ایران کی طرف سے بند کردہ اس اہم سمندری تجارتی راستے کو دوبارہ کھلوانے کی کوشش کرے گی۔ امریکہ نے جو نئی ٹاسک فورس قائم کی ہے، وہ آبنائے ہرمز میں سلامتی کی موجودہ صورت حال کو بھی بہتر بنائے گی، خاص طور پر اس وجہ سے بھی کہ ایران نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے عروج کے دنوں میں آبنائے کو بند کر دیا تھا، لیکن کافی عرصہ سے ایران جنگ میں فائر بندی کے باوجود توانائی کے ذرائع کی عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم اس کمرشل شپنگ روٹ کو ابھی تک دوبارہ کھولا نہیں جا سکا۔ اس نئی ٹاسک فورس نے پیر چار مئی سے اپنا جو کام شروع کیا ہے، اس کے بارے میں میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے بتایا کہ اب آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے مال بردار بحری جہازوں کے عملے سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اس بحری راستے سے جنوب کی طرف سے گزرنے کی کوشش کریں اور اپنی نقل و حرکت کو عمانی حکام کی مدد سے مربوط بنائیں۔ آبنائے ہرمز خلیج فارس میں ایرانی ساحلوں اور عمانی سرزمین کے درمیان ایک بہت تنگ سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا بھر کو تیل اور قدرتی گیس کی برآمدی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔