الیکٹرک بسوں کا مینٹننس آر ٹی سی کے تحت رہے گا، بسوں کی تعداد میں اضافہ کے اقدامات
حیدرآباد۔/22 جنوری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ آر ٹی سی کے بس ڈپوز کو خانگیانے سے متعلق میڈیا کے بعض گوشوں میں وائرل خبروں کی آر ٹی سی حکام نے تردید کی ہے۔ میڈیا میں یہ خبریں عام ہوچکی تھیں کہ الیکٹرک بسوں کو متعارف کرنے کے بعد بس ڈپوز کو خانگی شعبہ کے حوالے کردیا جائے گا۔ منیجنگ ڈائرکٹر آر ٹی سی سجنار نے واضح کردیا کہ آر ٹی سی ڈپوزکا انتظام مکمل طور پر آر ٹی سی کے کنٹرول میں رہے گا۔ بسوں کو الیکٹرک بسوں میں تبدیل کرنے کے بعد بس ڈپوز کو خانگیانے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔ انہوں نے اس بارے میں پھیلائی جانے والی خبروں کی سختی سے مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ان خبروں میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ الیکٹرک بسوں کا مینٹننس اور انہیں چلانے سے متعلق شیڈول طئے کرنے کی ذمہ داری آر ٹی سی کے تحت رہے گی۔ واضح رہے کہ حکومت نے حیدرآباد میں 3000 الیکٹرک بسوں کو متعارف کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور نئی بسوں کی فراہمی کے سلسلہ میں مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ نیتن گڈکری سے نمائندگی کی گئی ہے۔ حیدرآباد میں آلودگی پر قابو پانے کیلئے ڈیزل سے چلنے والی بسوں کی جگہ الیکٹرک بسوں کو متعارف کرنے کا منصوبہ ہے۔ واضح رہے کہ مارچ 2019 میں آر ٹی سی میں 40 الیکٹرک بسوں کو متعارف کیا گیا جو شہر کے اہم روٹس پر چلائی جاتی ہیں۔ بسوں کے مینٹننس اور چارجنگ کی ذمہ داری آر ٹی سی کا عملہ انجام دیتا ہے۔ مارچ 2023 میں مرکزی حکومت کی نیشنل الیکٹرک بس اسکیم کے تحت 550 انٹرسٹی اور 500 سٹی بسوں کی خریدی کیلئے ٹنڈر طلب کئے گئے جن میں سے 170 سٹی اور 183 ڈسٹرکٹ بسیں حاصل کی گئی ہیں۔خانگی اداروں کی مداخلت کے نتیجہ میں باقی الیکٹرک بسوں کی فراہمی میں تاخیر ہوئی ہے۔ الیکٹرک بسیں جن ڈپوز سے چلائی جارہی ہیں ان میں گریٹر حیدرآباد کے 6 ڈپوز کے علاوہ ورنگل، کریم نگر، نظام آباد کے فی کس دو ڈپوز شامل ہیں۔1