مارچ 2023 میں ملک کو ہندو راشٹر بنادیا جائیگا ۔ نئے ’ دستور ‘ کے ابتدائی نکات کی اجرائی ۔ اترپردیش سے نیا فتنہ
محمد مبشر الدین خرم
حیدرآباد14۔اگسٹ۔آزاد ہندستان اپنے 75 سال کی تکمیل کا جشن منا رہا ہے اور ہر ہندستانی اس جشن کا حصہ بنا ہوا ہے لیکن احمقوں کی جنت میں رہنے والے عناصر اب بھی ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں ۔ نفرت و خوف پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں جن پر لگام کسنے کے ذریعہ ہی حکومت یہ ثابت کرسکتی ہے کہ ملک آزاد ہے اور ہر شہری کو آزادانہ زندگی گذارنے کا حق حاصل ہے۔ ملک میں جہاں ہندستان کی آزادی میں قربانی دینے والوں اور اس جدوجہد میں شریک لوگوں کو یاد کیا جا رہا ہے اور محاسبہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آزاد ہندستان کے 75 برس میں ہندستانیوں نے کیا حاصل کیا اور کیا کھویا اتر پردیش میں احمقوں کی جنت میں رہنے والے بعض عناصر کی جانب سے ملک کے نئے دستور کے ابتدائی نکات کو پیش کرکے یہ دعویٰ کیا جا رہاہے کہ مارچ 2023 میں دھرم سنسد میں ہندو راشٹر کا مکمل دستور پیش کردیا جائے گا۔حکومت کو ان کی اس کوشش کے خلاف فوری کارروائی کرنی چاہئے کیونکہ دستور کی تبدیلی کے گھناؤنے دعوؤں کے باوجود حکومت کی خاموشی پر یہ شکوک سر ابھارتے ہیں کہ یہ کوششیں حکومت کے نظریات کی عکاس ہیں جنہیں روکنے اور ان کوششوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی میں پس و پیش کیا جا رہاہے۔ کل 30 سادھوؤں نے وارناسی میں 32 صفحات پر مشتمل نئے دستور کے طور پر ایک کتابچہ کی رسم اجرائی عمل میں لائی اور اس رسم اجرائی کو میڈیا کی جانب سے خاصی جگہ بھی فراہم کی گئی اور اس میں جو منافرت پھیلانے کی کوشش کی گئی وہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی ملک کے خلاف سازش جیسے مقدمات کے اندراج کیلئے کافی ہے کیونکہ اس 32 صفحات پر مشتمل کتابچہ میں جسے ’ہندو راشٹر‘ کا دستور قرار دیا جا رہاہے ۔ کہا گیا کہ ہندستانی مسلمانوں و عیسائیوں کو حق رائے دہی سے محروم کیا جانا چاہئے اور ہر ہندستانی شہری کو فوجی تربیت کی بات کی جارہی ہے ۔ ملک میں منافرت پھیلانے کی کوشش کرنے والے اس گروہ میں شامل افراد کا کہناہے کہ مارچ 2023 میں سنگم شہر میں ’مگھ میلہ ‘ اور دھرم سنسد میں اس دستور کو پیش کرکے منظور کیا جائیگا۔جاریہ سال دھرم سنسد میں منظورہ قرار داد کے مطابق دستور کی تیاری کے عمل کا آغاز کرنے کا دعویٰ کرکے کہا جا رہاہے کہ جو ممالک ہندستان سے علحدہ ہوئے انہیں دوبارہ ہندستان میں شامل کرنے اقدامات کئے جائیں گے۔ ملک میں منافرت پھیلانے کی کوشش کرنے والے ان افراد کو ’احمقوں کی جنت ‘ میں رہنے والے قرار دیتے ہوئے نظراندازنہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان کی کوشش پر خاموشی ان کی حوصلہ افزائی کا سبب بن سکتی ہے اور اس طرح کی کوششیں ملک کی گنگاجمنی تہذیب کو نقصان پہنچاسکتی ہیں اسی لئے ان کے خلاف کاروائی کے مطالبہ کے علاوہ شکایت و احتجاج درج کروایا جانا چاہئے ۔ اس معاملہ میں ریاستی ومرکزی حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئے کیونکہ ملک کی خوبصورتی یہی ہے کہ اس کا کوئی مذہب نہ ہونے کے سبب تمام مذاہب و تہذیبوں کے ماننے والے ہندستانی کی حیثیت سے مساوی حقوق کے ساتھ زندگی گذاررہے ہیں۔ہندو راشٹر کے دستور کی تیاری کرنے والی کمیٹی میں شامل نام نہاد سادھو اور ماہرین کا دعوی ہے کہ نیا دستور 750 صفحات پر مشتمل ہوگا اور اس کا نصف مارچ 2023میں جاری کردیا جائیگا۔ملک کی آزادی کے 75 سال کی تکمیل کے جشن منانے کی یہ کوشش اور اس پر حکومت کی خاموشی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت انہیں نظرانداز کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جبکہ اگر کسی اور مذہب کے ماننے والوں نے ایسا اقدام یا صرف بیان بھی دیا ہوتا تو ان کے خلاف ملک سے غداری کے علاوہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے کی کوششوں کی سنگین دفعات اور یو اے پی اے کے تحت مقدمات درج کرکے انہیں جیل بھیج دیا جاتا ۔ملک کی سالمیت کے تحفظ کیلئے ضروری ہے کہ اسے نقصان پہنچانے اور عوام کے درمیان رخنہ ڈالنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔