وائٹ ہاؤس میں تقریب کے دوران فائرنگ سے افراتفری

,

   

l مدعوئین جان بچانے میزوں کے نیچے بیٹھ گئے ‘کچھ ہال سے باہر بھاگ گئے
l صدر ٹرمپ‘جے ڈی وینس اور دیگر قائدین کو محفوظ نکال لیا گیا، حملہ آور گرفتار

واشنگٹن۔26؍اپریل ( ایجنسیز) وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران فائرنگ سے ہلچل مچ گئی اور صدر ٹرمپ ‘نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر کو وہاں سے محفوظ نکال لیا گیا۔ فائرنگ کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس کے متعلق کہا جارہا ہیکہ وہ ذہنی بیمار ہے۔ حملہ آور 31 سالہ کول تھامس سابق ٹیچر بتایا گیا ہے جس کا تعلق کیلیفورنیا سے ہے ۔ میڈیاکے مطابق واقعہ ہفتہ کی رات کو اس وقت پیش آیا جب وہاں میڈیا کے نمائندوں کے اعزاز میں عشائیہ چل رہا تھا۔ صدر ٹرمپ اسٹیج پر بیٹھے تھے اور انہوں کو تقریب سے خطاب کرنا تھا پھر ایک اہلکار ان کے پاس ایک پرچی لیے پہنچا جس پر ساتھ بیٹھی خاتون شدید خوفزدہ اور حیران دکھائی دیں، اس کے ساتھ ہی کچھ آوازیں سنائی دینے پر ہلچل مچ گئی اور صدر کو نکال لیا گیا۔لوگ اپنی جان بچانے کیلئے میزوں کے نیچے بیٹھ گئے اور کچھ بھاگ کھڑے ہوئے۔سیکوریٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ ایک شخص کی جانب سے فائرنگ کی گئی تاہم صدر ٹرمپ ٹھیک ہیں۔حملہ آور سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ واقعے کے وقت تقریب میں ایک آواز سنائی دی کہ ’راستے سے ہٹ جائیں سر‘۔تقریب میں موجود بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں پانچ سے آٹھ گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں۔اس تقریب میں سینکڑوں مشہور صحافی اور مشہور شخصیات موجود تھیں۔ تقریب فوری طور ختم کر دی گئی اور افراد کو باہر نکال لیا گیا۔اس تقریب میں ٹرمپ ‘ جے ڈی وینس کے علاوہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی موجود تھے۔ سیکرٹ سروس کا کہنا ہے کہ تمام حکام کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا اور کوئی زخمی نہیں ہوا۔رپورٹ کے مطابق واقعے کے بعد عمارت کے قریب ہیلی کاپٹروں کی پروازیں بھی دکھائی دیں۔ میرے خیال میں واقعے کا تعلق ایران جنگ سے نہیں۔واقعہ کے تھوڑی دیر صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں واقعے کا ایران جنگ سے کوئی تعلق نہیں تاہم تحقیقات جاری ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اسی تقریب کو 30 روز کے اندر دوبارہ منعقد کیا جائے گا۔انہوں نے حملے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ حملہ آور نے اہلکار پر گولی چلائی مگر بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے وہ محفوظ رہا اور حملہ آور کو قابو کر لیا گیا۔ان کے مطابق حملہ آور کے پاس کئی ہتھیار تھے اور انہوں نے خود حملہ آور کو پکڑنے والے اہلکار سے بات کی ہے۔صدر ٹرمپ نے ان پر ہونے والے پچھلے حملوں کا ذکر بھی کیا اور سکیورٹی کی جانب سے فوری ردعمل کو سراہا۔ان کے مطابق آپ چاہے ریپبلکن ہوں یا ڈیموکریٹ، لبرل یا کوئی بھی، مگر ہم کو اپنے اختلافات ختم کرنا ہو گا۔بتایا جاتا ہے وائٹ ہاوس کو پورے سال کور کرنے والے امریکہ کے سینئر صحافیوں کے ساتھ صدر ٹرمپ کی جانب سے سالانہ ڈنر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس تقریب میں صدر،نائب صدر اور وزیردفاع کے ساتھ صحافیوں اور دیگر معززین سمیت تقریباً 2600 افراد تقریب میں موجودتھے۔ اب سوال یہ کیا جارہا ہے کہ صدر کی عدیم المثال سیکورٹی کے باوجود حملہ آور اسلحہ کے ساتھ تقریب میں پہنچنے میں کیسے کامیاب ہو گئے؟H/A

فائرنگ واقعہ میری جان لینے کی ایک اور کوشش :ٹرمپ
واشنگٹن، 25 اپریل (یو این آئی) ڈونالڈ ٹرمپ نے فائرنگ کے واقعے کے بعد ہنگامی پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ یہ ان کی جان لینے کی ایک اور کوشش تھی وائٹ ہاؤس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں انہیں نشانہ بنانے کی متعدد کوششیں ہوئیں، جن میں پنسلوانیا بٹلر میں جلسے کے دوران اور پام بیچ فلوریڈا میں گالف کھیلتے وقت پیش آنے والے واقعات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ عشائیہ میں فائرنگ کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وائٹ ہاؤس میں جدید طرز کے بال روم اور غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات کی فوری ضرورت ہے ۔ ٹرمپ کے مطابق واقعے کے دوران امریکی خفیہ سروس کے ایک اہلکار کو قریب سے گولی ماری گئی، تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی اور اس کی حالت اب خطرے سے باہر ہے ۔