راہ میں مرحلۂ دشت و جبل آئیں گے
صبح سے پہلے اُفق پار چلے جانا ہے
ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں جس وقت سے آدتیہ ناتھ چیف منسٹر بنے ہیں اس وقت سے اقلیتوں کی عبادتگاہوں اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے ۔ کہیں سرکاری اراضی پر تعمیر کی بات کی جا رہی ہے تو کہیں اجازت کے بغیر تعمیر کا عذر پیش کیا جا رہا ہے ۔ جو مساجد کئی برسوں سے بلکہ کئی دہوں سے موجود ہیں انہیں مسمار کرنے میںکوئی عار محسوس نہیں کی جا رہی ہے ۔ کچھ صدیوں پرانے عبادتگاہوں اور مذہبی مقامات کو بھی شہید کردیا گیاہے ۔ عدالتوں سے احکام حاصل کرنے کا عذر پیش کرتے ہوئے اس طرح کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں ۔ اترپردیش جیسی ریاست میں جہاں انتہائی حساس فرقہ وارانہ ماحول ہے وہاں اس طرح کی کارروائیاں در اصل مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے کی کوشش ہیںاور انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنانے کے جذبہ کے تحت یہ کام کئے جا رہے ہیں۔ یہ بالکل درست ہے کہ جو غیر مجاز تعمیرات ہوئی ہیں اور جو تعمیرات سرکاری اراضیات پر قبضہ کرکے کی گئی ہیں انہیں منہدم کیا جانا چاہئے تاہم جہاں تک مذہبی معاملات کا سوال ہے تو اس تعلق سے تحمل اور رواداری کے ذریعہ کام کیا جانا چاہئے ۔ اترپردیش جیسی ریاست میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مکانات ایسے ہوسکتے ہیں جو غیر مجاز طور پر تعمیر کئے گئے ہیں۔ بے شمار مقامات پر سرکاری اراضیات پر قبضۃ کرکے تعمیرات انجام دی گئی ہیں۔ کئی بڑی اور معروف تعمیرات ایسی بھی ہوسکتی ہیں جو منظورہ شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی ہوں لیکن ان تمام میں کسی کو بھی نشانہ نہیں بنایا جا رہا ہے ۔ کئی برسوں سے اگر کوئی سرکاری اراضیات پر قبضہ کرکے مکانات تعمیر کرتا ہے تو اس کے تعلق سے بھی ہمدردانہ رویہ اختیار کیا جاتا ہے ۔ سرکاری اراضیات کی فیس عائد کرتے ہوئے انہیں باقاعدہ بنایا جاتا ہے اور یہی طریقہ کار مذہبی مقامات اور عبادتگاہوں کے معاملے میں بھی اختیار کیا جانا چاہئے لیکن اترپردیش میںصرف مساجد اور درگاہوں اور دیگر مذہبی مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف کام کیا جا رہا ہے اور انہیں احساس کمتری کا شکار کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے ۔
تازہ ترین کارروائی میں سہارنپور میں ضلع کلکٹریٹ کے احاطہ میں واقع ایک قدیم مسجد کو شہید کردیا گیا ۔ یہ مسجد کسی عام مقام پر نہیں بلکہ ضلع کلکٹریٹ کے حدود میں واقع تھی ۔ اس کو بھی ایک ماہ قبل عدالت سے سرکاری زمین پر تعمیر مسجد قرار دیا گیا تھا ۔ اس کے خلاف مسجد کمیٹی کی اپیل بھی یقینی طورپر خارج کردی گئی تھی تاہم حکومت کو اس معاملے میں مذہبی رواداری کے ساتھ کام کرنا چاہئے تھا ۔ اترپردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ کی جو حکومت ہے وہ محض مسلم دشمنی اور مسلم مخالف اقدامات پر انحصار کر رہی ہے ۔ کٹر مذہبی منافرت کے ذریعہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے میں کوئی کسر باقی نہیںر کھی جا رہی ہے ۔ اترپردیش جیسی ریاست میں ہزاروں مندر اور دیگر مذہبی مقام ایسے بھی ہوسکتے ہیں جو غیر مجاز تعمیر کئے گئے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے ۔ سیاسی قائدین اور خاص طور پر بی جے پی قائدین پر بھی سرکاری اراضیات کو ہڑپ لینے اور غیر مجاز تعمیرات کرنے کے الزامات ہیں اس کے باوجود انہیں نشانہ نہیں بنایا جاتا اور نہ ہی ان کے خلاف کسی طرح کی کوئی کارروائی کی جاتی ہے ۔ محض اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے جذبہ کے ساتھ مساجد اور درگاہوں وغیرہ کے خلاف اس طرح کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں جبکہ ان سے گریز کیا جاسکتا تھا ۔ عبادتگاہوں کو برقرار رکھنے کیلئے گنجائش نکالی جاسکتی تھی اور جو سرکاری اراضیات تھیں ان کی قیمت وصول کرنے پر اکتفاء کیا جاسکتا تھا ۔ انصاف پسند انتظامیہ اس طرح کی کارروائی کرتا لیکن یوگی انتظامیہ اس کے برخلاف کام کر رہا ہے ۔
سماجوادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقراء حسن اس مقام کا دورہ کرنا چاہتی تھیں۔ تاہم انہیںروک دیا گیا ۔ انہیں دورہ تک کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ بھاری پولیس جمیعت کی موجودگی میں یہ کارروائی کی گئی ہے ۔ اب جبکہ اترپردیش میں آئندہ چند مہینوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں ایسے میں یوگی حکومت کی جانب سے اس طرح کے کئی اقدامات ہوسکتے ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے کے جذبہ کے تحت کام کیا جاسکتا ہے ۔ ریاست کے عوام اور انصاف پسند طبقات کو اس سے چوکس رہنے کی ضرورت ہے ۔ مذہبی مقامات کے تعلق سے منفی سوچ اور جذبہ رکھنے والی حکومت کو سبق سکھانے کی ضرورت ہے ۔ سماج میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بچانے کیلئے ووٹ دیا جانا چاہئے ۔
مشرق وسطی ‘ غیر یقینی صورتحال
مشرق وسطی میں صورتحال بہت تیزی سے بدلتی جا رہی ہے ۔ کبھی ایسا لگتا ہے کہ امن قائم ہونے کے امکانات روش ہوگئے ہیں اور بات چیت میںپیشرفت ہورہی ہے تو اچانک ہی حملے اور فوجی کارروائیوں کا آغاز ہوجاتا ہے ۔ ایران اور امریکہ کی جانب سے بیان بازیوں کا سلسلہ تو کبھی تھما ہی نہیں ۔ ایک دوسرے کو بیان بازی سے نیچا دکھانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی ۔ مشرق وسطی کی اس غیر یقینی صورتحال نے عالمی معیشت کو ایک طرح سے تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے ۔ اس کے اثرات عام آدمی تک محسوس کرنے لگا ہے ۔ مہنگائی اپنی حدوں کو چھو رہی ہے اور عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ مشرق وسطی کی صورتحال پر عالمی برادری اور خاص طور پر اقوام متحدہ کو توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ فریقین کو بات چیت کی میز پر لاتے ہوئے ایک ضابطہ تیار کرنے اور دونوں کو اس کا پابند بنانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ صورتحال صرف خطہ کو نہیں بلکہ ساری دنیا کو متاثر کر رہی ہے اور جتنا جلدی اس کا حل دریافت کرلیا جائے ساری دنیا کیلئے اتنا ہی بہتر ہوسکتا ہے ۔