نئی دہلی : راجستھان کے شہر اجمیر میں واقع خواجہ معین الدین چشتی کی تاریخی درگاہ کو لے کر چل رہے تنازعہ میں آج ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ہندو سینا کی طرف سے داخل اس مقدمہ میں، جس میں درگاہ کو قدیم شیو مندر قرار دیا گیا ہے، مرکزی حکومت نے سخت موقف اپناتے ہوئے مقدمہ خارج کیے جانے کی سفارش کی ہے۔ یہ سفارش جمعہ 19 اپریل کو اجمیر کی ضلع عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران مرکزی حکومت کے اقلیتی امور کی وزارت کی طرف سے دی گئی۔ وزارت نے اپنے حلف نامے میں کہا کہ ہندو سینا کی طرف سے دائر کیا گیا مقدمہ قانونی طور پر ناقابل سماعت ہے اور اس میں کوئی معقول بنیاد موجود نہیں ہے جس پر عدالت غور کرے۔