مذہبی مقامات کا انہدام آئینی و مذہبی آزادی پر قدغن ۔ سہارنپور مسجد کی شہادت پر شدید رد عمل کا اظہار
پرتاپ گڑھ7 ستمبر (یواین آئی ) جمعیتہ علماء ہند (محمود مدنی )کے رکن مجلس انتظامی مولانا شبیر احمد مظاہر نے کہا کہ ملک میں خصوصی طور پر بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں آئین و قانون کی بالادستی ختم ہوتی جارہی ہے ،اور بغیر جواز صرف تعصب اور بہانے کی بنیاد پر مذہبی مقامات پر انہدامی کارروائی جاری ہے ،جس کی ضمن میں سہارنپور کی 150 سالہ قدیمی مسجد کو اپیل کی مہلت دیئے بغیر شہید کرانے سے یہ ثابت ہو گیا کہ آر ایس ایس و بی جے پی کی سازش سے آئینی مذہبی آزادی پر قدغن لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ،جو ملک کی روح،آئین و ہزاروں سال قدیمی گنگا جمنی تہذیب پر کاری ضرب ہے ۔انہوں نے مذہبی مقامات پر انہدامی کارروائی کو اس کو ملک کیلئے ایک سیاہ دن قرار دیا۔مولانا شبیر نے کہا کہ ملک کی آزادی کے بعد آئین ہند کے نافذ ہونے پر سبھی شہریوں کو مساوی حقوق کے ساتھ اظہار آزادی و ہندو،مسلمان ، سکھ ،عیسائی و بودھ کو آئینی مذہبی آزادی میں یہ حقوق دیا گیا کہ سبھی شہریوں کو اپنے مذہب کی تبلغ، اشاعت،مذہبی مقامات وغیرہ کی تعمیر کی پوری حاصل ہوگی اور جو مذہبی مقامات جہاں واقع ہیں ان سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی،مگر بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے مذہبی مقامات پر بلا جواز بہانہ و مبینہ سرکاری زمین پر تعمیر کا بہانہ بنا کر بغیر اپیل کی مہلت دیئے انہدامی کارروائی غیر آئینی و غیر قانونی ہے ،جو قابل مذمت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کے متعلق ہائی کورٹ میں اپیل کی مہلت کے بغیر فوری پولیس فورس کے ساتھ بلڈوزر لگا کر منہدم کر دیا گیا کہ ہائی کورٹ میں اپیل کے بعد مسجد کے حق میں فیصلہ آنا یقینی تھا،جس کے سبب جلد بغیر اپیل کی مہلت دیئے مسجد منہدم کر دی گئی۔ انہوںنے کہا کہ غیر قانونی قبضے کا بہانہ لے کر مذہبی مقامات پر انہدامی کارروائی کی جو مہم چل رہی ہے ،اس سے مسلمانوں میں ہی نہیں،بلکہ انصاف پسند ہندووں میں بھی تشویش ہے ۔ حکومت اپنی ناکامی کو چھپانے ایسی کارروائی پر آمادہ ہے ۔