پنچایت راج اداروں میں بی سی طبقات کو 42 فیصد تحفظات، خصوصی بی سی کمیشن کی سفارشات پر عمل ہوگا
حیدرآباد۔/4فروری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ طبقاتی سروے رپورٹ کی بنیاد پر پنچایت راج انتخابات میں بی سی طبقات کیلئے نشستیں الاٹ کی جائیں گی۔ اسمبلی لابی میں میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت نے سیاسی مقصد براری کیلئے سروے منعقد نہیں کیا بلکہ کمزور طبقات کو انصاف فراہم کرنا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی سی تحفظات کے سلسلہ میں قائم کردہ خصوصی کمیشن سروے رپورٹ کی بنیاد پر حکومت کو سفارشات پیش کرے گا جس کے مطابق مجالس مقامی اور پنچایت راج اداروں میں تحفظات فراہم کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سروے کے مطابق جملہ 73.5 فیصد عوام پسماندہ ہیں اور سروے کے بعد قومی سطح پر سروے کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی پر دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ نے ملک کو سماجی انصاف کی راہ دکھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی زمرہ بندی کے مسئلہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے، کابینی سب کمیٹی کی سفارشات اور ایک رکنی کمیشن کی سفارشات کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اہم اپوزیشن بی آر ایس کو ذمہ داری کا احساس نہیں ہے اور پسماندہ طبقات سے کوئی دلچسپی نہیں۔ قائد اپوزیشن ایوان سے غیر حاضر رہتے ہوئے پسماندہ طبقات سے عدم دلچسپی کا اظہار کرچکے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کے سی آر، کے ٹی آر، ہریش راؤ، پدما راؤ اور ڈی کے ارونا نے سروے میں حصہ نہیں لیا۔ اراضی کی تفصیلات کو مخفی رکھنے کیلئے یہ قائدین سروے سے دور رہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں کیا گیا سروے اگر سرکاری دستاویز ہے تو اسے کابینہ میں پیش کیوں نہیں کیا گیا اور نہ ہی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مجالس مقامی میں بی سی طبقات کو42 فیصد تحفظات کی فراہمی میں حکومت سنجیدہ ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے 88 عام زمرہ کی نشستوں میں 30 نشستیں بی سی طبقات کو الاٹ کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بی سی تحفظات کے مسئلہ پر خصوصی کمیشن عدالت کے فیصلہ کے مطابق عمل کرے گا۔ تلنگانہ میں وسط مدتی انتخابات سے متعلق کے ٹی آر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ بعض افراد وسط مدتی چناؤ کی بات کررہے ہیں تو کیا سرسلہ میں کے ٹی آر خودکشی کرلیں گے۔1