کئی دہوں سے زیر التواء درخواستوں کے حل کی راہ ہموار: سرینواس ریڈی
حیدرآباد۔ 27 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں جاری اراضی تنازعات کے پس منظر میں حکومت نے کئی دہوں سے اربن لینڈ سیلنگ (ULC) کی زیر التواء درخواستوں کی یکسوئی کے لئے حکومت نے اہم فیصلہ کیا ہے۔ وزیر مال پی سرینواس ریڈی نے بتایا کہ حکومت نے اربن لینڈ سیلنگ کے تمام کیسیس کی جانچ کرتے ہوئے انہیں قواعد کے مطابق باقاعدہ بنانے کی عہدیداروں کو ہدایت دی ہے۔ اربن لینڈ سیلنگ اراضی کے معاملہ میں 2016 میں احکامات جاری کئے گئے تھے لیکن سابق بی آر ایس حکومت نے احکامات پر عمل نہیں کیا۔ رجسٹریشن ایکٹ کے سیکشن 22A سے متعلق مسائل کو حل کرنے کا آغاز ہوچکا ہے۔ حکومت نے اس سلسلہ میں پہلے ہی 3 اہم فیصلے کئے ہیں۔ ریاستی وزیر کے مطابق جی او 118 اور 76 کے تحت احکامات جاری کئے گئے۔ سیکشن 22A ممنوعہ فہرست میں شامل اراضیات اور مکانات کے رجسٹریشن کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر مسائل کو بھی فارسٹ ٹریک طریقہ سے حل کیا جارہا ہے۔ سرینواس ریڈی نے بتایا کہ ممنوعہ فہرست میں شامل اراضیات اور جائیدادوں کے سلسلہ میں حکومت کو جو نمائندگیاں وصول ہوئی ہیں ان کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت نے عہدیداروں کو یکسوئی کی ہدایت دی ہے۔ اربن لینڈ سیلنگ کے کئی دہوں سے زیر التواء تنازعات کے حل کے لئے حکومت کے فیصلے سے امید کی جارہی ہے کہ عوام کو سہولت ہوگی۔ اربن لینڈ سیلنگ کے زیر التواء مسائل کے حل کے لئے حکومت نے میمو نمبر 48062 جاری کیا ہے جس کے تحت جی او نمبرات 455، 456، 747 اور 92 کے تحت زیر التواء درخواستوں کی فوری جانچ کرتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر یکسوئی کی جائے گی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اس سلسلہ میں اسمبلی میں تیقن دیا تھا۔ سیکشن 22A کے تحت درخواستوں کی یکسوئی کے لئے عہدیداروں کی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ 1؍F