نام بتائیں یا پھر عوامی طور پر معافی مانگیں‘پونے کی تنظیم کا مطالبہ
ممبئی :پونے کی ایک تنظیم نے مہاراشٹر اکے وزیر اعلی ایکناتھ شندے کو قانونی نوٹس بھیجا ہے۔ نوٹس میں تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو وہ پولیس اور عوام کے سامنے ان غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے نام ظاہر کریں جن پر انہوں نے شہری نکسل ہونے کا الزام لگایا ہے یا پھر عوامی طور پر معافی مانگیں۔ یہ نوٹس بال کرشن عرف بنٹی ندھالکر کی طرف سے بھیجا گیا ہے، جو ’نربھئے بنو‘ عوامی تحریک کے سرگرم رکن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔بنٹی ندھالکر نے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو یہ نوٹس ایڈووکیٹ اسیم سرودے کے ذریعے بھیجا ہے۔ گزشتہ اتوار کو وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے الزام عائد کیا تھا کہ کچھ این جی اوز نے مہایوتی کو کمزور کرنے کے لیے کام کیا۔ مہایوتی نے ریاست کی 48 پارلیمانی سیٹوں میں سے 17 پر کامیابی حاصل کی جن میں سے شنڈے کی شیوسینا کو سات سیٹیں ملیں۔ وزیر اعلیٰ شندے نے ان این جی اوز کو اربن نکسل قرار دیتے ہوئے ان پر مہایوتی کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔ شندے مہاراشٹر کے ایم ایل سی انتخابات میں کوکن گریجویٹ حلقہ سے بی جے پی کے امیدوار نرنجن ڈاوکھرے کے لیے ایک ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نکسلی صرف گڈچرولی میں نہیں ہیں۔ اربن نکسل این جی اوز میں بھی گھس گئے ہیں اور منظم طریقے سے حکومت کے خلاف جھوٹے بیانیے تیار کر رہے ہیں۔ حالانکہ تمام این جی اوز کے ساتھ ایسا نہیں ہے لیکن کچھ این جی اوز واضح طور پر حکومت مخالف ہیں۔ وہ سرگرمی کے ساتھ ہمارے (حکمراں) اتحاد کے خلاف جھوٹ پھیلاتے ہیں۔ زرعی پریشانی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری جیسے دیگر مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے نوٹس میں شندے کے دعوے کو ’مضحکہ خیز‘ اور ’غیر قانونی‘ قرار دیا گیا ہے۔نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ شندے کے بیان کا مطلب ہے کہ وہ ایسی کئی این جی اوز کے بارے میں جانتے ہیں جو ان کے مطابق اربن نکسل ہیں۔ لہٰذا ان سے درخواست ہے کہ ان تمام این جی اوز کے بارے میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں اور اس کا عوامی سطح پر اعلان کیا جائے تاکہ ان این جی اوز کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔ اگر ان کے بیان میں کوئی سچائی نہیں ہے تو وہ اپنے ’غیر ذمہ دارانہ اور جھوٹے بیان‘ کے لیے مہاراشٹر کے لوگوں سے عوامی طور پر معافی مانگیں۔