اردو کتاب میلہ کے بجائے ”اردو کتا میلہ“۔ اردو کے ساتھ مجرمانہ غفلت

سری نگر (جموں و کشمیر): ان دنو ں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ گشت کررہی ہے۔ اس پوسٹ میں قومی کونسل برائے قومی فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے زیر اہتمام کشمیر یونیورسٹی کے اشتراک سے ۳۲/ واں کل ہند اردو کتاب میلہ کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ لیکن مذکورہ پوسٹ میں ایک بینر دکھایا گیا ہے جس میں اردو کتاب میلہ کی جگہ ”اردو کتا میلہ“ بنایاگیا ہے۔ جو کہ اردو زبان کیساتھ سراسر نا انصافی کھلی غفلت ہے۔

دوسری جانب قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے اس غلطی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قومی کونسل کی جانب سے ایساکوئی بینر آویزاں نہیں کیا گیا ہے۔ قومی اردو کونسل اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عقیل احمد نے بتایا کہ قومی کونسل کی طرف سے ایسا کوئی بینر بنوایا یا آویزاں نہیں کیا گیاہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کو بینرس بنائے ہیں وہ کشمیر یونیورسٹی میں لگے ہیں۔ اور ان بینروں میں کوئی غلطی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایاکہ وادی کشمیر میں ہمارے ۱۸/ سنٹرس چل رہے ہیں ہوسکتا ہے کہ کسی سنٹر نے ازخود ہمارے بینر کی ہو بہو نقل بنانے کے دوران یہ غلطی کردی ہو۔ ڈاکٹر عقیل احمد نے مزید بتایا کہ جو بینرس ہم نے لگائے ہیں اس میں کوئی غلطی نہیں ہے۔

اب اگر کسی نے ذاتی طور پر بینرس بناکر لگائے ہیں تو اس کیلئے قومی اردو کونسل ذمہ دار کیسے ہوسکتی ہے؟ ابھی ہمارے علم میں نہیں ہے کہ وہ بینر کہاں لگاہوا ہے۔ کوئی جان بوجھ کر بھی ایسی حرکت کرسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT