کلکٹرس و پولیس سے عوامی نمائندوں کو شکایت، انچارج وزراء کو اجلاس منعقد کرنے چیف منسٹر کا مشورہ
حیدرآباد۔/16 مارچ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ضلع کلکٹرس، کمشنران و سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کے ٹیلی فون کا فوری جواب دیں اور ان کی جانب سے پیش کردہ مسائل کی یکسوئی پر توجہ دیں۔ کانگریس سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی نے چیف منسٹر سے شکایت کی کہ ضلع کلکٹرس اور پولیس عہدیدار ان کے ٹیلی فون ریسیو کرنے سے گریز کررہے ہیں اور مسائل کی یکسوئی کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ ارکان اسمبلی نے چیف منسٹر سے شکایت کی کہ مقامی سطح کے مسائل کیلئے جب عہدیداروں کو فون کیا جاتا ہے تو وہ ریسیو نہیں کرتے اور مقامی قائدین کو روانہ کرنے پر موثر جواب نہیں دیا جاتا۔ ارکان اسمبلی نے یہاں تک شکایت کی کہ بعض عہدیدار ابھی بھی اپوزیشن بی آر ایس قائدین کے اشارہ پر کام کررہے ہیں۔ کانگریس ارکان اسمبلی نے تلنگانہ انچارج میناکشی نٹراجن کے ذریعہ یہ شکایت ہائی کمان تک پہنچائی جس کے بعد ہائی کمان نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو اس جانب توجہ دینے کا مشورہ دیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے اس سلسلہ میں ریاستی وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں سے مشاورت کی اور کہا کہ ارکان اسمبلی کو عہدیداروں کی جانب سے نظرانداز کرنا افسوسناک ہے۔ چیف منسٹر نے وزراء اور خاص طور پر اضلاع کے انچارج وزراء کو ہدایت دی کہ وہ ارکان اسمبلی اور عہدیداروں کے درمیان بہتر تال میل کو یقینی بنائیں۔ چیف منسٹر نے وزراء کو پابند کیا کہ وہ اضلاع کے دورہ کے موقع پر مقامی کانگریس ارکان اسمبلی کو ساتھ رکھیں اور ضلع کلکٹرس کے ساتھ جائزہ اجلاسوں میں ارکان اسمبلی کی شرکت کو یقینی بنائیں۔ چیف منسٹر نے اضلاع کے انچارج وزراء کو ہدایت دی کہ وہ ضلع کے ارکان پارلیمنٹ اور اسمبلی کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کریں تاکہ اعلیٰ عہدیداروں تک اسمبلی حلقہ جات کے مسائل کو پیش کیا جاسکے۔ واضح رہے کہ ارکان اسمبلی اور کونسل نے بعض ریاستی وزراء کے رویہ کے خلاف بھی ہائی کمان سے شکایت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تلنگانہ کی نئی انچارج میناکشی نٹراجن نے ارکان اسمبلی کی شکایات سے ہائی کمان کو واقف کرایا اور ضلعی سطح پر عوامی نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ارکان اسمبلی نے یہ بھی شکایت کی کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ملاقات کرنا بھی آسان نہیں ہے۔ پارٹی ہائی کمان نے چیف منسٹر کو مشورہ دیا کہ وہ روزانہ عوامی نمائندوں سے ملاقات کا وقت متعین کریں تاکہ اسمبلی حلقہ جات کی سطح پر مسائل کی یکسوئی ہوسکے۔ ارکان اسمبلی کو کارکنوں اور عوام کی ناراضگی سے بچانے کیلئے چیف منسٹر اور وزراء کو وقفہ وقفہ سے اجلاس منعقد کرنے چاہیئے۔1