ریونت ریڈی کے جارحانہ موقف سے بی آر ایس کو اُلجھن، مباحث کا مؤثر جواب دینے پر وزراء کی ستائش
حیدرآباد 28 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے بجٹ سیشن کے دوران برسر اقتدار کانگریس پارٹی نے جس انداز میں اپوزیشن کے الزامات کا منہ توڑ جواب دیا اُس پر چیف منسٹر ریونت ریڈی نے مسرت کا اظہار کیا۔ بجٹ سیشن جو 11 دن تک جاری رہا، اس میں چیف منسٹر ریونت ریڈی کو پہلی مرتبہ اپوزیشن کے خلاف جارحانہ انداز میں دیکھا گیا۔ چیف منسٹر نے مباحث کے درمیان مداخلت کرتے ہوئے اپوزیشن بی آر ایس اور بی جے پی کے الزامات کا مدلل جواب دیتے ہوئے حقیقی صورتحال پر کھلے مباحث کا چیلنج کیا۔ بجٹ سیشن میں قائد اپوزیشن کے سی آر کی عدم شرکت سے بھی بی آر ایس دفاعی موقف میں نظر آئی۔ بی آر ایس ارکان کی قیادت ہریش راؤ اور کے ٹی آر نے کی اور بجٹ کے علاوہ 6 ضمانتوں پر عمل آوری کے سلسلہ میں نقائص اور ناکامیوں کو اُجاگر کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن چیف منسٹر اور ریاستی وزراء نے الزامات کا مدلل جواب دیتے ہوئے اپوزیشن کو اجلاس پر حاوی ہونے کا موقع فراہم نہیں کیا۔ بجٹ سیشن میں بی سی طبقات کے لئے 42 فیصد تحفظات اور ایس سی زمرہ بندی کے حق میں بلز کو منظوری دی گئی۔ دونوں قوانین کے نفاذ کے لئے پارلیمنٹ میں منظوری ضروری ہے اور چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بی جے پی قائدین سے اِس سلسلہ میں وزیراعظم سے نمائندگی پر زور دیا۔ بی سی تحفظات اور ایس سی زمرہ بندی پر چیف منسٹر ریونت ریڈی کل جماعتی وفد کے ہمراہ وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گے۔ وزیراعظم سے ملاقات کا وقت مانگا گیا ہے لیکن دہلی سے ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے لوک سبھا حلقہ جات کی ازسرنو حدبندی کے خلاف چیف منسٹر ٹاملناڈو ایم کے اسٹالن کی جدوجہد کی نہ صرف تائید کی بلکہ حدبندی کی مخالفت کرتے ہوئے تلنگانہ اسمبلی میں قرارداد منظور کی گئی۔ اسمبلی کا بجٹ سیشن مجموعی طور پر کانگریس پارٹی اور حکومت کے حق میں رہا اور چیف منسٹر کی بارہا مداخلت کے نتیجہ میں اپوزیشن بالخصوص بی آر ایس کو حکومت کو گھیرنے کا موقع نہیں مل سکا۔ اِسی دوران چیف منسٹر ریونت ریڈی نے وزراء اور ارکان اسمبلی سے غیر رسمی ملاقات کرتے ہوئے بجٹ سیشن کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ چیف منسٹر نے وزراء کی بھی بھرپور ستائش کی جنھوں نے اپنے اپنے قلمدانوں کے بارے میں سیر حاصل جواب دیا۔ وقفہ سوالات کے علاوہ محکمہ جات کے مطالبات زر پر مباحث کے دوران بھی وزراء کے مؤثر جوابات کی چیف منسٹر نے ستائش کی۔ بجٹ کی منظوری اور تمام محکمہ جات کے مطالبات زر پر مباحث کو یقینی بنانے کے لئے اسمبلی اور کونسل کے اجلاس آدھی رات تک جاری رکھے گئے اور اسپیکر اور صدرنشین کونسل نے اِس سلسلہ میں مکمل تعاون کیا۔ چیف منسٹر نے اسپیکر پرساد کمار اور صدرنشین کونسل سکھیندر ریڈی سے بھی اظہار تشکر کیا۔ اسمبلی بجٹ سیشن میں چیف منسٹر کے جارحانہ موقف نے بی آر ایس کو حیرت میں ڈال دیا کیوں کہ عام طور پر چیف منسٹر عوامی جلسوں میں اپوزیشن کے خلاف اِس طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں لیکن قانون ساز اسمبلی میں کے سی آر خاندان کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ بی آر ایس ارکان کے ہر الزام کا چیف منسٹر نے منہ توڑ جواب دیا اور بجٹ سیشن پر حکومت اور کانگریس کی برتری کو برقرار رکھا۔ یہ پہلا موقع ہے جب وزراء اور ارکان اسمبلی میں بہتر تال میل دیکھا گیا اور ارکان نے دیر رات تک جاری رہنے والے اجلاسوں میں شرکت کی۔1