حیدرآباد۔/22 ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا پہلا اجلاس ہنگامہ خیزثابت ہوا۔ کمیٹی کے صدرنشین کے عہدہ پر بی آر ایس کے منحرف رکن اے گاندھی کو مقرر کرنے کے خلاف بطور احتجاج بی آر ایس کے ارکان نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔ اے گاندھی کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا صدرنشین مقرر کئے جانے کے بعد کمیٹی کا یہ پہلا اجلاس تھا۔ برسراقتدار کانگریس اور اپوزیشن بی آر ایس ارکان کے درمیان بحث و تکرار ہوئی۔ اسپیکر پرساد کمار، کونسل کے صدرنشین جے سکھیندر ریڈی اور وزیر امور مقننہ ڈی سریدھر بابو کی موجودگی میں بی آر ایس ارکان نے احتجاج درج کرایا اور کہا کہ اے گاندھی کا تقرر قابل قبول نہیں ہے۔ بی آر ایس ارکان وی پرشانت ریڈی، جی کملاکر، ایل رمنا اور ستیہ وتی راٹھور نے سریدھر بابو کی جانب سے اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب دینے پر تنقید کی اور اسپیکر سے وضاحت کا مطالبہ کیا۔ بحث و تکرار کے دوران اسپیکر پرساد کمار خاموش رہے۔ بی آر ایس ارکان نے اسمبلی کے قاعدہ 250 کے تحت کمیٹی کے صدرنشین کے دوبارہ انتخاب کی مانگ کی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس سربراہ کے سی آر نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کیلئے ہریش راؤ، پرشانت ریڈی ، کملاکر، ایل رمنا اور ستیہ وتی راٹھور کے نام پیش کئے تھے لیکن اچانک حکومت نے ہریش راؤ کے بجائے اے گاندھی کو صدرنشین کے عہدہ پر مقرر کردیا۔ بی آر ایس کے دور حکومت میں یہ عہدہ اپوزیشن کو دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ کانگریس نے منحرف رکن کو صدارت دی ہے۔ کانگریس ارکان اسمبلی سرینواس ریڈی اور دوسروں نے کہا کہ صدرنشین کا تقرر قواعد کے مطابق ہوا ہے اور اسمبلی ریکارڈ کے مطابق گاندھی بی آر ایس کے رکن ہیں۔1