اشتعال انگیزی کا کیس: صحافی زبیر کا 4 روزہ پولیس ریمانڈ

   

ملزم کو روزانہ 30 منٹ وکیل سے بات کرنے کی اجازت

نئی دہلی :آلٹ نیوز کے شریک بانی اور جانباز صحافی محمد زبیر کو دہلی پولیس نے منگل کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا۔ زبیر کو پیر کی رات گرفتار کیا گیا تھا۔ دہلی پولیس نے زبیر کیلئے پانچ دن کے ریمانڈ کی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے چار روزہ ریمانڈ منظور کیاہے۔پولیس کے مطابق اس کے خلاف مختلف مقدمات میں دیگر ایف آئی آر بھی درج ہیں۔33 سالہ زبیر کو عدالت نے پولیس تحویل کے دوران اپنے وکیل سے روزانہ نصف گھنٹہ ملاقات کرنے کی اجازت دی ہے تاکہ وہ قانونی اعانت حاصل کرسکیں۔ زبیر کی درخواست ضمانت کو مختلف بنیادوں پر عدالت نے مسترد کردیا۔ انہیں پیر کی شام دہلی پولیس نے مبینہ طور پر نام نہاد فرقہ وارانہ ہم آہنگی بگاڑنے والے مبینہ ٹوئٹ پر گرفتار کیا تھا۔دہلی پولیس کے آئی ایف ایس او سیل کے ڈپٹی کمشنر کے پی ایس ملہوترا نے کہا کہ زبیر کے قابل اعتراض ٹوئٹ کے بعد ٹویٹر پر نفرت انگیز تقاریر کا سیلاب آگیا، جس نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی بگڑگیا۔پی ایس ملہوترا کے مطابق دو چیزیں ’’ تکنیکی گیجٹ اور مقصد ‘‘ اہم تھیں، وہ دونوں میں مبینہ طور پر غلط ثابت ہوئے۔ انہوں نے اپنا فون فارمیٹ کردیاتھا۔ انہیں ان ہی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ سوشل میڈیا پر کوئی خیالات ظاہر کرتے ہیں تو وہ آپ کے خیالات بن جاتے ہیں۔ کسی پوسٹ کو ریٹویٹ کریں اور کہیں کہ میں نہیں جانتا، یہاں اس کا کوئی مطلب نہیں ہوتا ہے۔ اس کی ذمہ داری آپ کی ہے ، وقت سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔پولیس کی کارروائی کا انحصار اس بات پر ہے کہ معاملہ ہمارے نوٹس میں کب آیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کسی کا بہت سے کیسز میں نام آتا ہے تو یہ ہمارا حق ہے کہ ہم اس سے ہر کیس میں پوچھ گچھ کریں۔ حراست میں لئے جانے کا پروانہ مل گیا ہے ، ضمانت نہیں ملی ہے۔ ایس پی ملہوترا کے مطابق’ مقدمہ کہیں نہ کہیں مضبوط ضرور ہے ،اسے سیاسی طور پر محرک کہنا درست نہیں ہے، ہم اس کے ریمانڈ میں توسیع کا مطالبہ کریں گے۔