ایم ایل سی ، مارپیٹ کے ویڈیو کی توثیق کے ذریعہ خود کو بچانے کوشاں
حیدرآباد۔29۔اگسٹ(سیاست نیوز) رکن قانون ساز کونسل مرزا رحمت بیگ اگر مستعفی ہوتے ہیں تو انہیں فوری گرفتار کرتے ہوئے جیل بھیج دیا جائے گا !ذرائع کے مطابق عطاپور کے علاقہ میں ناجائز تعلقات کے معاملہ میں نوجوانوں کی جانب سے رکن قانون ساز کونسل کے ساتھ مارپیٹ ‘ زدوکوب سے متعلق ویڈیو کا جائزہ لینے اور اس کے AI یا Deep fake نہ ہونے کی توثیق کے بعد مجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے کی جانے والی کاروائی کے بعد اب رحمت بیگ اپنی قانون ساز کونسل کی رکنیت کو ڈھال بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق رحمت بیگ کے مستعفی ہونے کے ساتھ ہی انہیں گرفتار کرتے ہوئے تفتیش کا آغاز کرنے کی تیاری کی جاچکی ہے لیکن سہ پہر تک بھی وہ اپنا استعفیٰ پیش کرنے کے لئے تلنگانہ قانون ساز کونسل نہیں پہنچے جبکہ کونسل کے ذرائع کے مطابق صدرنشین کونسل جی سکھیندر ریڈی نے رحمت بیگ کے استعفیٰ کے معاملہ میں قانونی و سرکاری سطح پر مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ مکتوب استعفیٰ موصول ہوتے ہی اسے قبول کرلیں گے اور ان کے خلاف پولیس کی کاروائی کی راہ ہموار ہوجائے گی۔رکن قانون ساز کونسل کے عہدہ پر رہتے ہوئے رحمت بیگ کی بغیر صدرنشین کونسل و گورنر کی اجازت کے گرفتاری ممکن نہیں ہوگی اسی لئے پولیس ان کے استعفیٰ کا انتظار کر رہی ہے ۔ رحمت بیگ اب محض جنسی ہراسانی ‘ ناجائز تعلقات یا ان کے ساتھ کی گئی مارپیٹ اور زدوکوب کے معاملہ میں ہی پولیس کو مطلوب نہیں ہیں بلکہ انہوں نے گذشتہ یوم جوجھوٹی شکایت درج کرواتے ہوئے انہیں ’’بلیک میل ‘‘ کئے جانے کا مقدمہ درج کروایا تھا اسی ویڈیو کے معاملہ میں جماعت سے برطرفی کے بعد یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ویڈیو میںمبینہ طورپر موجود ‘ نوجوان کے ساتھ بدفعلی ‘جنسی ہراسانی کا شکار خاتون‘ نوجوانوں کی جانب سے رکن قانون ساز کونسل کو مارپیٹ و زدوکوبی محض Deepfake یا AI سے تیار کردہ نہیں ہے بلکہ اس میں بعض حصہ حقیقی ہے جس کی تحقیق کے لئے پولیس کی جانب سے انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔3/a/b
قابل اعتراض ویڈیو معاملہ …
رکن اسمبلی اور سابق کارپوریٹر کا نام بھی شامل !
سوشیل میڈیا پر دعوے ، تصدیق ہونے پر کارروائی کا خدشہ
حیدرآباد۔29۔اگسٹ(سیاست نیوز) کون ہیں وہ رکن اسمبلی و سابق کارپوریٹر جو مبینہ طور پر قابل اعتراض ویڈیو معاملہ میں ملوث ہونے کے دعوے کئے جارہے ہیں! مجلسی رکن قانون ساز کونسل مرزا رحمت بیگ کے پارٹی سے اخراج کے بعد سوشل میڈیا پر کئے جانے والے دعوے کے مطابق قابل اعتراض ویڈیو معاملہ میں ایک رکن اسمبلی اور ایک سابق کارپوریٹر کے نام بھی گشت کرنے لگے ہیں۔بتایاجاتاہے کہ مرزا رحمت بیگ کی برطرفی اور انہیں مستعفی ہونے کے احکام کی اجرائی کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر رکن اسمبلی اور سابق کارپوریٹر کے متعلق قیاس آرائیاں کی جانے لگی ہیں اور دعویٰ کیا جار ہاہے کہ اگر ان کے خلاف کاروائی نہیں کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں ان کے ویڈیو بھی منظر عام پر لائے جائیں گے۔پارٹی ذرائع کے مطابق مجلسی قیادت تمام اراکین اسمبلی کے علاوہ سابق کارپوریٹرس کی سرگرمیوں کے متعلق تفصیلات حاصل کرنے میں مصروف ہے تاکہ توثیق کی صور ت میں ان کے خلاف بھی کاروائی کو یقینی بنایا جاسکے۔مرزا رحمت بیگ کو جماعت سے برطرف کئے جانے کے بعد ان کے ساتھ رہنے والے تمام حواریوں نے ان کا ساتھ چھوڑتے ہوئے دارالسلام پہنچ کر پارٹی قیادت پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ پارٹی کے فیصلہ کا احترام کرتے ہیں اور محض جماعتی وابستگی کے سبب وہ رکن قانون ساز کونسل کے ہمراہ رہا کرتے تھے ۔ویڈیو کے متعلق توثیق کے ساتھ ہی پارٹی کے فیصلہ کا مختلف گوشوں سے خیر مقدم کیا جارہاہے اور کہا جارہاہے کہ دعوے کے مطابق اگر کسی رکن اسمبلی اور سابق کارپوریٹر کے ملوث ہونے کے ثبوت پائے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں ان کے خلاف بھی کاروائی کی جا ئے گی۔3/a/b