حیدرآباد ۔18۔ مئی (سیاست نیوز) مغربی ایشیا میں کشیدگی کے نتیجہ میں ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں مرکز نے فی لیٹر 3 روپئے کا اضافہ کردیا ہے ۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے پیش نظر مرکز کی جانب سے یہ پہلا اضافہ ہے جبکہ معاشی ماہرین کو اندیشہ ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں بتدریج فی لیٹر 10 روپئے تک اضافہ کا امکان ہے ۔ تین روپئے کے اضافہ کے نتیجہ میں کئی ریاستوں میں پٹرول کی قیمت فی لیٹر 110 روپئے سے تجاوز کرچکی ہے ۔ جنوبی اور سنٹرل انڈیا کی ریاستوں میں مقامی ٹیکسیس کے نتیجہ میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ درج کیا گیا۔ بعض ریاستوں میں ابھی بھی پٹرول کی قیمت 100 روپئے سے کم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ویاٹ کے نتیجہ میں پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے اور ہر ریاست میں ویاٹ کی شرح مختلف ہے جس کے نتیجہ میں فی لیٹر اضافہ 4 تا 5 روپئے تک ہوچکا ہے۔ آندھراپردیش میں پٹرول فی لیٹر 113.03 روپئے ہوچکا ہے جبکہ تلنگانہ میں 110.89 روپئے فی لیٹر پٹرول فروخت کیا جارہا ہے ۔ بہار اور مغربی بنگال میں فی لیٹر 108 روپئے جبکہ مدھیہ پردیش میں 109 ، راجستھان 107 اور لداخ میں 106 روپئے فی لیٹر فروخت کیا جارہا ہے ۔ کرناٹک میں 106 روپئے جبکہ کیرالا میں 110 روپئے فی لیٹر پٹرول کی قیمت ہے۔ انڈامان نکوبار میں 84.99 روپئے فی لیٹر کی قیمت ہے جبکہ پڈوچیری ، گوا ، دہلی ، ہریانہ ، پنجاب ، جموں و کشمیر، اروناچل پردیش اور ناگالینڈ میں پٹرول کی قیمت 100 روپئے سے کم ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کا راست طور پر اثر ٹرانسپورٹ چارجس میں اضافہ پر رہتا ہے جس کے نتیجہ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ یقینی ہے۔1/k/m/b