بے لگام’ گئو رکھشک ‘ امن کیلئے خطرہ

   

لوگ ہیں کیا واقعی وہ کام کے !
ہر طرف چرچے ہیں جن کے نام کے
عید الاضحی سے قبل شہر اور ریاست کے امن کو خطرہ پیدا کرنے والی سرگرمیاں اچانک ہی شروع ہوجاتی ہیں اور گئو رکھشک کے نام پر کچھ اشرار سڑکوں پر اترکر ہنگامہ آرائی کرتے ہیں۔ جن جانوروں کا ذبیحہ یا منتقلی منع نہیں ہے ان کی گاڑیاں بھی روکی جاتی ہیں۔ جانوروں کو ضبط کیا جاتا ہے ۔ پولیس بھی ان کا ساتھ دیتی ہے اور پھر جانوروں کو گئو شالہ یا پھر کسی شیلٹر ہوم منتقل کردیا جاتا ہے ۔ یہ بھی دعوے کئے جاتے ہیں کہ ان جانوروں کو دوبارہ مارکٹوں میں فروخت کیلئے بھی پہونچا دیا جاتا ہے ۔ یہ ایک الگ مسئلہ ہے تاہم اصل مسئلہ گئو رکھشکوں کی شرانگیزیوں کا ہے ۔ ان گئو رکھشکوں کو بے لگام چھوڑ دیا گیا ہے اور وہ امن کیلئے خطرہ پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ جن جانوروں کی منتقلی اور ذبیحہ منع ہے اور جن پر امتناع عائد ہے اگر ان جانوروں کو منتقل کیا جاتا ہے یا ان کا ذبیحہ کیا جاتا ہے تو اس کو روکنے کیلئے پولیس موجود ہے ۔ شہر میں داخل ہونے والے مختلف مقامات پر پولیس کی جانب سے کیمپس لگائے جاتے ہیں۔ وہاں چیکنگ کی جاتی ہے ۔ تمام تفصیلات کی جانچ کی جاتی ہے جس کے بعد ہی ان کی منتقلی کی اجازت دی جاتی ہے یا قوانین کی خلاف ورزی پائی جاتی ہے تو انہیں ضبط کیا جاتا ہے ۔ یہ کام پولیس کا ہے اور پولیس کی جانب سے یہ کام کیا جاتا ہے ۔ قانون ہاتھ میں لینے کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہوسکتی ۔ گئو رکھشک کھلے عام قانون اپنے ہاتھ میں لے کر ایک طرح سے غنڈہ گردی کرنے لگتے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ پولیس کی جانب سے غنڈہ گردی کرنے والے شر انگیزوں کے خلاف کارروائی کرنے اور انہیں جیلوں میں بند کرنے کی بجائے قانونی طور پر جانور منتقل کرنے والوں کے خلاف ہی کارروائی کی جاتی ہے ۔ اس طرح کا طرز عمل ہی گئو رکھشکوں کے حوصلے بلند کر رہا ہے اور وہ قانون سے کھلواڑ کرتے ہوئے امن کیلئے خطرہ پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف جو قانونی کارروائی ہونی چائے پولیس کی جانب سے وہ کارروائی نہیں کی جاتی ۔ ایک طرح سے پولیس کی جانب سے ایسے عناصر کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے اقدامات کئے جاتے ہیں۔
گئو رکھشا کے نام پر باضابطہ ٹولیاں بناتے ہوئے غنڈہ گردی کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے ۔ قانون کی حفاظت کرنے اور قانون کی خلاف ورزی پر کارروائی کرنے کیلئے پولیس موجود ہے اور پولیس کو ہی یہ کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ پولیس کے اعلی عہدیدار بارہا یہ ہدایت دیتے نظر آتے ہیں کہ گئو رکھشکوں کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے اور قانون اپنے ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ تاہم اعلی عہدیداروں کے یہ بیانات صرف زبانی نظر آتے ہیں اور کاغذ تک ہی محدود رہتے ہیں۔ عملی طور پر ان پر کوئی عمل نہیں ہوتا ۔ گئو رکھشکوں کو کھلی چھوٹ دی جاتی ہے اور وہ تجارت کیلئے یا پھر ذبیحہ کیلئے جو جانور منتقل کئے جاتے ہیں ان کو روک کر ہنگامہ کیا جاتا ہے ۔ مار پیٹ کی جاتی ہے اور جانوروں کی ضبطی عمل میں لائی جاتی ہے ۔ جو بازار جانوروں کی فروخت کیلئے سجائے جاتے ہیں ان کے خلاف نہ پولیس کوئی کارروائی کرتی ہے اور نہ ہی کوئی گئو رکھشک ان بازاروں میں کوئی ہنگامہ کیا جاتا ہے ۔گذشتہ شب حیدرآباد میں پیش آیا واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح سے محض شبہ کی بنیاد پر یہ اشرار شہر کے امن کو درہم برہم کرنے پر آمادہ ہوگئے ہیں۔ پلائی ووڈ کی گاڑی کو جانوروں کی گاڑی کے شبہ میں نقصان پہونچانا ۔ ڈرائیور کو مارپیٹ کا نشانہ بنانا ۔ سامان کو توڑ پھوڑ کردینا یہ سب کچھ ایک منصوبہ بندا ور منظم سازش کا حصہ ہی ہے ۔ ایسے واقعات شہر اور ریاست دونوں کے امن کیلئے خطرہ کا سبب بن سکتے ہیں۔
گئو رکھشا کے نام پر نوجوانوں کی ٹولیاں بنائی جاتی ہیں ۔ مخصوص مقامات پر یہ ٹولیاں جمع ہوتی ہیں۔ گاڑیوں کو روک کر ہنگامہ کیا جاتا ہے ۔ مار پیٹ کی جاتی ہے ۔ ڈرائیورس کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ اشتعال انگیز نعرہ بازی کی جاتی ہے ۔ یہ سارا کچھ اس لئے ہوسکتا ہے کہ ان اشرار کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہوتی ہے ۔ پولیس کو چاہئے کہ جو کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ جن جانوروں پر پابندی ہے ان کو ضرور روکا جائے ۔ قانون ہاتھ میں لینے والوں اور غنڈہ گردی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ انہیں جیلوں میں بند کیا جائے تاکہ ریاست کا امن و امان برقرار رہ سکے ۔