حالیہ واقعات کے پیش نظر پڑوسیوں میں تعاون و اشتراک ضروری :ڈوول
نئی دہلی: ہندوستان، روس، ایران اور پانچ وسطی ایشیائی ممالک کے سیکورٹی سربراہوں نے آج افغانستان میں واقعات کے پیشرفت کے علاقائی سلامتی کے منظرنامے پر پڑنے والے اثرات پر گہرا غور و خوض کیا اور تسلیم کیا کہ افغانستان میں ہونے والی پیشرفت نہ صرف اس ملک کے لوگوں بلکہ پڑوسی اور آس پاس کے ممالک پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے ۔ایران، روس، قازقستان، جمہوریہ کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان کے قومی سلامتی کے مشیروں نے آج یہاں ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کی صدارت میں افغانستان کے بارے میں دہلی علاقائی سلامتی مذاکرات میں شرکت کی۔ ہندوستان کی پہل کے تحت منعقد ہونے والی اس میٹنگ میں پاکستان اور چین کو بھی مدعو کیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس میں شرکت کرنے سے انکار کردیا۔اپنے ابتدائی ریمارکس میں ڈوول نے کہا کہ ہم سب آج افغانستان سے متعلق مسائل پر بات کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ یہ ممالک کے درمیان قریبی مشاورت اور زیادہ تعاون اور ہم آہنگی کا وقت ہے ۔ انہوں نے کہا‘‘ ہندوستان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ آج تمام وسطی ایشیائی ممالک اور روس کی شرکت کے ساتھ مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے ۔ ہم آج افغانستان سے متعلق معاملات پر بات چیت کے لیے یہ میٹنگ کر رہے ہیں۔ ہم سب افغانستان میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے نہ صرف افغانستان کے لوگوں کے لیے بلکہ اس کے پڑوسیوں اور خطے کے لیے بھی انتہائی اہم مضمرات کی حامل ہیں۔ڈوال نے کہاکہ یہ وقت علاقائی ممالک کے درمیان قریبی مشاورت، تعاون، اور بات چیت اور رابطہ کاری کا ہے ۔ قومی سلامتی کے مشیروں؍سلامتی کونسلز کے سیکرٹریوں جنہوں نے اجلاس میں شرکت کی ان میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری ریئر ایڈمرل علی شامخانی، قازقستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین کریم ماسیموف،کرغز جمہوریہ سکیورٹی کونسل کے سکریٹری مرات مکانووچ ایمانکولوف، روس کے سیکورٹی کونسل کے سکریٹری نکولوئی پی پیتروشوو، تاجکستان کی سلامتی کونسل کے سکریٹری نصرولو رحمتزون محمود زودا، ترکمانستان کے وزراء کی کابینہ کے نائب چیئرمین چارمیرات کاکالیوچ اماووف اورجمہوریہ ازبکستان کے صدر کے ماتحت سلامتی کونسل کے سکریٹری وکٹر مخمودوف شامل ہیں۔