نیویارک : اقوام متحدہ نے افغان طالبان کی جانب سے لڑکیوں کو ا سکولوں سے باہر رکھنے کو شرمناک اقدام قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ساتویں سے بارہویں جماعت کی طالبات کے ا سکول دوبارہ کھولیں۔ اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا کہ شہریوں کی بنیادی آزادیوں پر قدغنیں عائد کرنے کی پالیسی افغانستان کو بڑے پیمانے پر عدم تحفظ، غربت اور تنہائی کی جانب دھکیل دے گی۔طالبان نے ملک کا اقتدار سنبھالتے ہوئے لڑکیوں کو ا سکولوں میں جانے کی اجازت دینے سمیت جو وعدے کیے تھے وہ ابھی تک پورے نہیں کیے۔افغانستان میں تاحال ساتویں سے بارہویں جماعت کی طالبات تعلیم سے محروم ہیں اور ان پابندیوں سے 12 سے 18 برس کی لڑکیاں متاثر ہو رہی ہیں۔افغانستان کے نئے حکمرانوں نے لڑکوں کے ہائی ا سکول کھول دیے تھے تاہم لڑکیوں کو گھروں میں ہی رہنے کی ہدایت کی تھی۔