اقلیتیں بھکاری نہیں، قرض کیلئے صرف 50 کروڑ توہین کے مترادف

   


20 لاکھ نوجوانوں میں صرف 5 ہزار کو قرض کا منصوبہ، شیخ عبداللہ سہیل کا الزام
حیدرآباد ۔19 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس حکومت سبسیڈی لون فراہمی کے نام پر اقلیتی طبقات کی توہین کر رہی ہے۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی میناریٹیز ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی جانب سے اقلیتی امیدواروں سے سبسیڈی لون فراہمی کیلئے درخواستیں طلب کی گئیں ہیں۔ حکومت نے ریاست بھر میں صرف 5000 بیروزگار اقلیتی نوجوانوں کو سبسیڈی لون فراہم کرنے کیلئے محض 50 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ تلنگانہ میں مردم شماری 2011 ء کے مطابق اقلیتوں کی آبادی 4559425 ہے اور گزشتہ ایک دہے میں اقلیتی آبادی میں اضافہ ہوا ہے ۔ ریاست میں اقلیتی طبقات کے بیروزگار نوجوانوں کی تعداد تقریباً 12 تا 15 لاکھ ہے جن کا تعلق مسلم ، کرسچین ، سکھ ، جین اور دیگر طبقات سے ہے لیکن حکومت نے صرف 5000 نوجوانوں کو ایک لاکھ روپئے قرض فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ حکومت کا یہ فیصلہ تلنگانہ اقلیتوں کی توہین کے مترادف ہے۔ عبداللہ سہیل نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے گزشتہ 8 برسوں میں اقلیتوں کو ایک روپیہ بھی قرض جاری نہیں کیا ۔ 2015-16 ء میں 1.53 لاکھ درخواستیں داخل کی گئی تھی لیکن ایک بھی درخواست کی یکسوئی نہیں ہوئی ۔ حکومت نے درخواستوں کی وصولی کا سلسلہ بند کردیا تھا۔ چیف منسٹر کے سی آر نے معاشی امداد سے متعلق اسکیم کا احیاء کا تیقن دیا تھا لیکن کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ 7 برسوں کے وقفہ کے بعد درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر اقلیتوں کی معاشی پسماندگی دور کرنے میں سنجیدہ ہو تو اسے زائد بجٹ مختص کرنا چاہئے تھا۔ عبداللہ سہیل نے کہا کہ 50 کروڑ کی اجرائی کو حکومت اقلیتوں پر احسان کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرض کی فراہمی کیلئے اضلاع میں اقلیتوںکی آبادی کے اعتبار سے دو زمرہ جات کے تحت نشانہ مقرر کیا گیا ہے ۔ 21 اضلاع میں استفادہ کنندگان کی تعداد دو ہندسوں میں ہیں ۔ حیدرآباد میں سب سے زیادہ 1919 استفادہ کنندگان کا انتخاب کیا جائے گا جبکہ اقلیتوںکی آبادی 1747608 ہے۔ بھوپال پلی ضلع میں صرف 10 درخواستیں قبول کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر کو اقلیتوں کی توہین بند کرنی چاہئے ۔ اقلیتیں بھکاری نہیں ہے جبکہ وہ اپنا حق مانگ رہے ہیں۔ اقلیتوں کو ترقی میں مساوی حصہ ملنا چاہئے ۔ سالانہ 2.50 لاکھ کروڑ کے بجٹ میں اقلیتوں کو صرف 50 کروڑ مختص کرنا مذاق سے کم نہیں۔ عبداللہ سہیل نے قرض کی اجرائی کیلئے کم از کم 1000 کروڑ مختص کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کرنے کیلئے عنقریب بڑے پیمانہ پر ایجی ٹیشن شروع کیا جائے گا ۔ر