اقلیتی اداروں کے صدورنشین حکومت کے کارناموں کی اقلیتوں میں تشہیر میں ناکام

   

( مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے بی آر ایس قیادت متحرک)
اجلاس میںہریش راؤ کا اظہار ناراضگی،اضلاع کا دورہ کرنے کی ہدایت
حیدرآباد۔یکم ؍ نومبر، ( سیاست نیوز) اسمبلی انتخابات میں اقلیتوں کی تائید کے حصول کے سلسلہ میں بی آر ایس کے اقلیتی قائدین بالخصوص سرکاری عہدوں پر فائز شخصیتوں نے قیادت کو مایوس کیا ہے۔ وزیر فینانس ہریش راؤ نے اقلیتی اداروں کے صدورنشین کی کارکردگی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے کارناموں کو عوام تک پہنچانے میں ناکامی کی شکایت کی۔ بی آر ایس کی اعلیٰ قیادت نے ریاست بھر میں مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے اور گذشتہ دنوں حیدرآباد میں اقلیتوں کا اجلاس طلب کیا گیا تھا لیکن بی آر ایس قائدین کو چیف منسٹر کے سی آر کی عدم شرکت سے مایوسی ہوئی۔ اقلیتی قائدین کا کہنا تھا کہ دیگر طبقات کی تائید کے سلسلہ میں چیف منسٹر شخصی دلچسپی لے رہے ہیں لیکن مسلمانوں کے معاملہ میں وہ اجلاس میں شرکت کیلئے بھی تیار نہیں۔ کے ٹی آر نے اقلیتوں کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔ مختلف اضلاع میں بی آر ایس قائدین کو متحرک کرنے کیلئے وزیر داخلہ محمد محمود علی نے اضلاع سے سینئر مسلم قائدین کو حیدرآباد مدعو کیا تاکہ کے ٹی آر سے ملاقات کا اہتمام کیا جائے۔ کے ٹی آر سے ملاقات کا وقت طئے نہیں ہوسکا لہذا اقلیتی قائدین کو مایوسی سے روکنے کیلئے وزیر فینانس ہریش راؤ نے وزیر داخلہ کی سرکاری رہائش گاہ پر اقلیتی قائدین سے ملاقات کی۔ بتایا جاتا ہے کہ ہریش راؤ نے اقلیتی اداروں کے صدورنشین پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کی اسکیمات اور کارناموں کو عوام تک پہنچانے کے بجائے صرف اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ انہوں نے صدورنشین سے سوال کیا کہ کیا وہ ایک مرتبہ بھی مشترکہ طور پر حکومت کی تائید میں پریس کانفرنس کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی صدور نشین میں خود اتحاد نہیں ہے اور وہ اپنے عہدوں کے فوائد سے استفادہ میں مگن ہیں۔ ہریش راؤ نے کہا کہ پارٹی میں اور بھی سینئر قائدین کی موجودگی کے باوجود آپ لوگوں کو صدورنشین مقرر کیا گیا ہے لیکن پارٹی کیلئے آپ کا کوئی کام نہیں ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ کانگریس کے الزامات کا جواب دینے کیلئے اقلیتی قائدین کی جانب سے ایک بھی پریس کانفرنس نہیں کی گئی۔ ہریش راؤ کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کیلئے حکومت کے کئی کارنامے ہیں لیکن عوام کو قائل کرانے میں اقلیتی قائدین ناکام ہوچکے ہیں۔ انہوں نے اقلیتی قائدین کو ہدایت دی کہ مختلف ٹیمیں تشکیل دیتے ہوئے اضلاع کا دورہ کریں اور مسلمانوں میں حکومت کے کارناموں کو بیان کریں۔ اخبارات، الیکٹرانک میڈیا اور سوشیل میڈیا پر توجہ دی جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے بعض قائدین نے 12 فیصد مسلم تحفظات کے وعدہ سے متعلق سوال کیا جس پر شہر کے قائدین نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ الغرض ہریش راؤ پارٹی کے اقلیتی قائدین اور خاص طور پر سرکاری عہدوں پر فائز افراد کے رول سے مطمئن دکھائی نہیں دیئے۔