اقلیتی طلبہ کیلئے اسکالرشپ، فیس بازادائیگی اور اوورسیز اسکالر شپ کے بقایاجات جاری کئے جائیں

   

شادی مبارک کیلئے 150 کروڑ کا مطالبہ،چیف منسٹر سے پرانے شہر کے دورہ کی اپیل، بجٹ پر اکبر اویسی کی تقریر
حیدرآباد۔/8فروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں مجلس کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی نے اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کیلئے اسکالر شپ، فیس ری ایمبرسمنٹ اور اوورسیز اسکالر شپ کے بقایا جات کی اجرائی کا مطالبہ کیا۔ ریاستی بجٹ 2023-24 پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے اکبر اویسی نے تلنگانہ میں اقلیتوں کی سماجی، معاشی اور تعلیمی ترقی سے متعلق حکومت کے اقدامات کی ستائش کی۔ تاہم کہا کہ بعض اسکیمات پر عمل آوری سُست روی کا شکار ہے لہذا حکومت کو درکار بجٹ جاری کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہاکہ گذشتہ سال اقلیتی بہبود کیلئے 1724.67 کروڑ جاری کئے گئے۔ انہوں نے سال 2022-23 کے چوتھے سہ ماہی بجٹ جاری کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ اسکالر شپ اور دیگر تعلیمی اسکیمات پر عمل آوری ہو۔ انہوں نے کہاکہ شادی مبارک کی 33122 درخواستیں زیر التواء ہیں حکومت کو چاہیئے کہ وہ غریب لڑکیوں کی شادی میں امداد سے متعلق اسکیم کیلئے فنڈز جاری کرے۔ 150 کروڑ کی اجرائی کی صورت میں تمام درخواستوں کی یکسوئی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکالر شپ اسکیم کے تحت 13 لاکھ طلبہ کو 455.50 کروڑ جاری کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے پری میٹرک اسکالر شپ برائے اقلیتی طلبہ کو ختم کردیا ہے۔ ریاستی حکومت کو اقلیتی طلبہ کیلئے پری میٹرک اسکالر شپ کا آغاز کرنا چاہیئے۔ انہوں نے بتایا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ کے تحت 67.66 کروڑ کے بقایاجات ہیں۔ اوورسیز اسکالرشپ کے تحت 36 کروڑ جاری کئے گئے اور 2020-22 کی تمام منظورہ درخواستوں کیلئے جملہ 152 کروڑ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی طلبہ جنہوں نے بیرونی ممالک میں کورسیس مکمل کرلئے انہیں رقم جاری نہیں کی گئی۔ انہوں نے اسلامک سنٹر کیلئے الاٹ کردہ 10 ایکر اراضی پر تعمیری کام فوری شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے چیف منسٹر کے سی آر کو مشورہ دیا کہ وہ پرانے شہر کا دورہ کرتے ہوئے ترقیاتی سرگرمیوں کا جائزہ لیں۔ اکبر اویسی نے کہا کہ مکہ مسجد کے مرمتی کام زیر التواء ہیں۔ مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کیلئے حکومت سے نمائندگی کی گئی لیکن کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ سبسیڈی لون اسکیم کے تحت اقلیتی فینانس کارپوریشن کو 2 لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور گذشتہ پانچ برسوں سے اسکیم پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کم از کم 200 کروڑ جاری کرے تاکہ 30 ہزار افراد کو سبسیڈی لون جاری کیا جاسکے۔ انہوں نے وقف بورڈ کے ریکارڈ روم کو کھولنے اور تمام دستاویزات کی آڈیٹنگ اور نمبرنگ کی تجویز پیش کی تاکہ ریکارڈ کا تحفظ ہوسکے۔ بورڈ میں موجود دستاویزات کے ڈیجیٹلائزیشن کا کام بھی مکمل کیا جائے۔ انہوں نے پرانے شہر میں میٹرو ٹرین کے کاموں کے جلد آغاز، نوٹری ڈاکیومنٹس کو رجسٹرڈ کا درجہ دینے، عثمانیہ ہاسپٹل کی نئی عمارت کی تعمیر اور چارمینار یونانی ہاسپٹل کی ترقی کے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ اکبر اویسی نے لال دروازہ مندر کے لیے منظورہ 20 کروڑ کی اجرائی، کلیان منڈپم کی تعمیر اور اقلیتی اقامتی اسکولوں کی تعمیر کے لیے فنڈز جاری کرنے کی مانگ کی۔ر