تلنگانہ میں ووٹر لسٹ بحران، 43 لاکھ ووٹ منسوخ ہونے کے دہانے پر

   

7 چیف منسٹر ریونت ریڈی کے اسمبلی حلقہ کوڑنگل میں جھٹکا،96 فیصد ووٹرس نے نوٹس کا جواب نہیں دیا
7 حیدرآباد میں بڑی لاپرواہی کا انکشاف، 19 لاکھ ووٹرس سماعت کیلئے حاضر نہیں ہوئے، 3 ہزار ووٹ منسوخ ہوئے

حیدرآباد۔ 22 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں الیکشن کمیشن کے ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی SIR-2026 کے تحت ووٹرس کی منتقلی، غیر میاپنگ اور بے ضابطگیوں کی درستگی کے عمل میں ایک بڑا بحران پیدا ہوگیا ہے۔ ریاست بھر میں نوٹس حاصل کرنے والے 82.02 لاکھ ووٹرس میں سے 43.98 لاکھ (53.62 فیصد) ووٹرس طئے شدہ تاریخ تک سماعت کے لئے حاضر نہیں ہوئے یا انہوں نے اپنا جواب داخل نہیں کیا جس کے نتیجہ میں لاکھوں حق رائے دہی کے حامل شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف ہونے کا شدید خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ دستاویزات ، سرٹیفکیٹس اور اسنادات کے علاوہ شناختی کارڈ پیش کرنے کے بعد اب تک جن 38 لاکھ ووٹرس کے دستاویزات کی جانچ مکمل کی گئی ہے ان میں سے صرف 27.44 لاکھ لوگ ہی اہل اور درست حالت میں پائے گئے ہیں۔ اب یہی 27.44 لاکھ افراد کو فائنل ووٹر لسٹ میں شامل کیا جائے گا۔ اس کے برعکس ہزاروں ووٹرس کی درخواسیں ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسرس کی سطح پر زیر التواء ہیں۔ سنگین بات یہ ہے کہ اب تک نوٹس وصول کرنے والے ووٹرس میں سے 3000 ایسے ووٹرس جن کے پاس درکار شناختی کارڈس موجود نہیں تھے انہیں مکمل طور پر ووٹر لسٹ سے خارج کردیا گیا ہے۔ ریاست کے تقریباً تمام اسمبلی حلقوں میں ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کا عمل ابتر صورتحال کا شکار ہے لیکن چند اہم اسمبلی حلقوں کے اعداد و شمار انتہائی تشویشناک ہیں جس میں چیف منسٹر ریونت ریڈی کا اسمبلی حلقہ کوڑنگل میں بے ضابطگیوں اور غیر میاپنگ کے نام پر 66,342 ووٹرس کو نوٹس جاری کئے گئے تھے لیکن ان میں سے 63,984 (96 فیصد) ووٹرس نے مقررہ تاریخ تک جواب جمع نہیں کروایا۔ اسمبلی حلقہ قطب اللہ پور میں سب سے زیادہ 3.03 لاکھ ووٹرس کو نوٹس دی گئی جن میں سے 2.48 لاکھ ووٹرس نے جواب نہیں دیا اور سماعت میں غیر حاضر رہے۔ گریٹر حیدرآباد اور اس کے اطراف کے علاقوں میں سب سے زیادہ 31.91 لاکھ ووٹرس کو نوٹس جاری کئے گئے جن میں سے 19.47 لاکھ ووٹرس نے کوئی جواب داخل نہیں کیا۔ مختلف اسمبلی حلقوں کے غیر حاضر ووٹرس کا تفصیلی ڈیٹا کچھ اس طرح ہے۔ قطب اللہ پور (2.48 لاکھ)، شیر لنگم پلی (2.10 لاکھ)، میڑچل (1.84 لاکھ)، ملکاجگیری (1.18 لاکھ)، ایل بی نگر (1.18 لاکھ) اور پٹن چیرو (13,000) ووٹرس سماعت میں شریک نہیں ہوئے۔ دیگر اہم اسمبلی حلقوں میں کریم نگر، حضورآباد، سنگاریڈی، مہیشورم، راجندر نگر، ونپرتی، سوریا پیٹ، تنگاتورتی، ورنگل ایسٹ، عنبرپیٹ، جوبلی ہلز، صنعت نگر، سکندرآباد، دیورکدرہ اور کتہ گوڑم میں تقریباً 40 ہزار سے 50 ہزار ووٹرس فی حلقہ اسمبلی جواب دینے سے قاصر رہے۔ اس کے علاوہ ریاست بھر میں مزْد 10 لاکھ سے زائد ووٹرس ایسے ہیں جنہیں ابھی نوٹس کی تقسیم باقی ہے۔ اس بحران اور ووٹرس کی بے حسی کے پیچھے کئی اہم انتظامی اور تکنیکی وجوہات سامنے آئی ہیں۔ ووٹرس سے ان کے ذاتی شناختی کارڈ کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کے شناختی کارڈس پیش کرنے پر زور دیا جارہا ہے جو کہ کئی لوگوں بالخصوص قدیم ووٹرس کے لئے ایک شدید مشکل بن چکا ہے۔ الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق 12 منظور شدہ شناختی کارڈس میں سے صرف ایک کارڈ دکھانا کافی ہے۔ تاہم زمینی سطح پر EEOs اور AEROs دو یا تین شناختی کارڈس مانگ رہے ہیں۔ وہی آدھار کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، پیان کارڈ اور راشن کارڈ جمع تو کئے جارہے ہیں لیکن تکنیکی طور پر الیکشن کمیشن کی ترجیحی فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ گریٹر حیدرآباد کے کئی علاقوں میں بی ایل اوز گھر گھر جاکر نوٹس کی تقسیم اور درستگی کا کام نہیں کررہے ہیں۔ وہ ایک جگہ بیٹھ کر ووٹرس کو فون کالجس کررہے ہیں اور خود آکر نوٹس لے جانے کا حکم دے رہے ہیں جس سے عوام میں دلچسپی ختم ہوگئی ہے۔ مشترکہ اضلاع محبوب نگر اور رنگاریڈی کے ہزاروں ووٹرس روزگار کی تلاش میں ممبئی، پونے، شولاپور اور بھیونڈی (مہاراشٹرا) منتقل ہوچکے ہیں۔ ان کی عدم دستیابی کے باعث نوٹس کی تعمیل نہیں ہوسکی۔ محکمہ کی جانب سے مناسب نگرانی کا فقدان اور عوام میں پروسیس کے متعلق آگاہی کی کمی اس ابتر صورتحال کی بڑی وجہ ہے۔ 2؍F