چیف منسٹر ریونت ریڈی افتتاح کریں گے، 3 زمرہ جات میں سبسیڈی پر مبنی قرض کی فراہمی، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا کا جائزہ اجلاس
حیدرآباد۔/16 مارچ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی کل 17 مارچ کو بیروزگار نوجوانوں کو خود روزگار اسکیم سے وابستہ کرنے کیلئے راجیو یووا وکاسم اسکیم کا آغاز کریں گے۔ اسکیم کے تحت ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتی طبقات کے نوجوانوں کو متعلقہ فینانس کارپوریشنوں کے ذریعہ امداد فراہم کی جائے گی تاکہ وہ کاروبار شروع کرسکیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر فینانس بھٹی وکرامارکا نے آج وزیر بہبودی پسماندہ طبقات پونم پربھاکر اور ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتی کارپوریشنوں کے صدورنشین کے ساتھ اجلاس میں اسکیم کے گائیڈ لائنس کا جائزہ لیا۔ بھٹی وکرامارکا نے راجیو یووا وکاسم اسکیم کو تلنگانہ کے بیروزگار نوجوانوں کیلئے کانگریس حکومت کی جانب سے ایک تحفہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم کے تحت ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتوں کے بیروزگار نوجوانوں کو خود مکتفی بنانے کیلئے کارپوریشن کی جانب سے امداد دی جائے گی۔ اجلاس میں اقلیتی فینانس کارپوریشن کے صدرنشین محمد عبیداللہ کوتوال، ایس سی ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے صدرنشین پریتم، ایس ٹی ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے صدرنشین بلیا نائیک اور دوسروں نے شرکت کی۔ اسکیم کے لئے 17 مارچ سے درخواستیں قبول کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور 5 اپریل تک درخواستیں داخل کی جاسکتی ہیں۔ 6 اپریل تا 31 مئی درخواستوں کی جانچ کرتے ہوئے استفادہ کنندگان کا انتخاب کیا جائے گا۔ تلنگانہ کے یوم تاسیس کے موقع پر امدادی رقم منظور کی جائے گی۔ حکومت 5 لاکھ نوجوانوں کو امداد کے طور پر 6000 کروڑ کی اجرائی کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اسکیم کے رہنمایانہ خطوط کو جلد ہی قطعیت دی جائے گی اور اس سلسلہ میں مختلف کارپوریشنوں کے صدورنشین سے تجاویز حاصل کی گئی ہیں۔ حکومت تین علحدہ زمرہ جات کے تحت قرض کی اجرائی کا منصوبہ رکھتی ہے۔ پہلے زمرہ میں ایک لاکھ روپئے قرض اور 80 ہزار روپئے سبسیڈی فراہم کی جائے گی۔ دوسرے زمرہ میں 2 لاکھ روپئے قرض اور 70 فیصد سبسیڈی رہے گی۔ تیسرے زمرہ کے تحت 3 لاکھ روپئے قرض میں 60 فیصد سبسیڈی رہے گی۔ ضلع کلکٹر کی نگرانی میں منڈل سطح کی کمیٹیوں کے ذریعہ استفادہ کنندگان کا انتخاب کیا جائے گا۔ عہدیداروں کو گائیڈ لائنس کی تیاری کی ہدایت دی گئی ہے ۔ ریاست بھر میں اسکیم کے تحت 5 لاکھ نوجوانوں کا انتخاب کیا جائے گا اور ہر اسمبلی حلقہ کے تحت 4200 استفادہ کنندگان کا انتخاب ہوگا۔ صدرنشین اقلیتی فینانس کارپوریشن عبید اللہ کوتوال نے اقلیتی نوجوانوں کو 5 لاکھ روپئے تک قرض کی تجویز پیش کی جس میں 50 فیصد رقم کارپوریشن کی جانب سے سبسیڈی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریشن کی جانب سے ایک لاکھ روپئے کی سبسیڈی کا منصوبہ ہے جبکہ 2 لاکھ روپئے میں کارپوریشن 30 ہزار روپئے بطور سبسیڈی فراہم کرے گا۔ 6000 کروڑ کے بجٹ میں اقلیتوں کیلئے 850 کروڑ کی اجرائی کا امکان ہے۔ عبید اللہ کوتوال نے بیروزگار اقلیتی نوجوانوں کو 5 لاکھ روپئے تک امداد کی تجویز پیش کی۔ بھٹی وکرامارکا نے کارپوریشن کی جاریہ اسکیمات کیلئے بجٹ جاری کرنے سے اتفاق کیا۔1