آئی ہرک کا تاریخ اسلام اجلاس۔پروفیسر سید محمد حسیب الدین حمیدی کا لکچر
حیدرآباد ۔12؍جون (پریس نوٹ) ۹ھ میں غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد بارگاہ رسالت پناہی ؐ میں حاضر ہونے والے وفود میں وفد فزارہ بھی ایک تھا۔ یہ وفد بیس افراد پر مشتمل تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے وطن کا حال دریافت کیا تو ایک شخص اٹھا اور عرض کرنے لگا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! ہمارے وطن میں قحط سالی ہے۔ مواشی ہلاک ہو گئے اور اطراف و جوانب خشک ہو گئے اور ہمارے عیال بھوکے ہیں۔ لہذا اپنے پروردگار سے ہمارے لئے دعا فرمائیے‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبرپر تشریف لے گئے اور دعاء فرمائی کہ ’’اے اللہ! اپنے شہر اور جانوروں کو سیراب کر دے، اپنی رحمت کو پھیلا دے اور مردہ شہر کو زندہ کردے۔ اے اللہ! ہمیں ایسی بارش سے سیراب کر دے جو مدد کرنے والی، مبارک، سر سبز، شبانہ روز، وسیع، فوری، غیر تاخیر کنندہ، مفید اور غیر مضر ہو۔ اے اللہ! ہمیں باران رحمت سے سیراب کر دے نہ کہ باران عذاب سے یا منہدم اور غرق کرنے اور مٹانے والی بارش سے۔ اے اللہ! ہمیں بارش سے سیراب کر اور ہمارے دشمنوں کے مقابل ہماری مدد کر‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا کے بعد ان کے وطن میں بہت بارش ہوئی اور قحط سالی ختم ہوگئی۔آج صبح 10بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن ،سبزی منڈی قدیم میںاسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل انڈیا (آئی ہرک) کے زیر اہتمام منعقدہ ’1479‘ویں تاریخ اسلام اجلاس کے پہلے سیشن میں سیرت طیبہ کے تسلسل میں واقعات غزوئہ تبوک کے ضمن میں ان حقائق کا اظہار کیا گیا۔پروفسیر سید محمد حسیب الدین حمیدی جانشین شہزادئہ امام علی موسیٰ رضاؑڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ؒ نے نگرانی کی۔ بعدہٗ 12بجے دن جامع مسجد محبوب شاہی مالاکنٹہ روڈ روبرو معظم جاہی مارکٹ میں منعقدہ دوسرے سیشن میں سیدنا امام علی ابن موسیٰ رضا ؑ کے احوال شریف پر مبنی حقائق بیان کئے گئے۔ قرا ء ت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ،نعت شہنشاہ کونین ؐ سے اجلاس کا آغاز ہوا۔بعدہٗ انھوں نے انگلش لکچر سیریز کے ضمن میں حیات طیبہؐ کے مقدس موضوع پراپنا ’۱۲۰۳‘ واں سلسلہ وار، پر مغز اور معلومات آفریں لکچر دیا۔بعدہٗ لکچر کے دوسرے حصہ میں بتایا کہ حضرت امام علی رضاؑ ابن موسیٰ کاظم ؑکی زندگی مکمل طور پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات طیبہ کی آئینہ دار تھی۔ امام رـضا ؑ پرتو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و مولائے کائنات علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ تھے۔ حضرت امام علی رضا ابن موسیٰ ؑ آٹھویں امام ہیں۔ آپ کے والد حضرت امام موسیٰ کاظم ؑ اور والدہ حضرت سیدہ ام البنین طاہرہ نجمہؓ ہیں۔ سید الشہداء امام حسین ابن علی علیہ السلام کی نسل طیب و طاہر میں آپ چھٹی پشت میں ہے۔