سروے کے مطابق سینیٹ کی سات اہم نشستوں پر ڈیموکریٹس پارٹی کو سبقت
واشنگٹن 3 نومبر ( ایجنسیز ) امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کیلئے کئی شہروں میں رائے دہی کا آغاز ہوگیا ۔ امریکی ووٹرس کی کثیر تعداد پولنگ بوتھس کی سمت روانہ ہونے لگی ہے ۔ کنکٹی کٹ ‘ مئین ‘ نیویارک ‘ نیوجرسی ‘ اوہائیو ‘ کینٹکی اور انڈیانا جیسے شہروں میں ووٹرس پولنگ بوتھس پر قطاریں لگاتے ہوئے ووٹ کا استعمال کر رہے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کیلئے وسط مدتی انتخابات اہمیت کے حامل ہیں۔ ان انتخابات کو صدر ٹرمپ کی صدارت کا ایک بڑا امتحان بھی سمجھا جا رہا ہے ۔ لاکھوں افراد نے باضابطہ رائے دہی سے قبل ہی اپنے ووٹ کا استعمال بھی کرلیا تھا ۔ آج کی رائے دہی سے یہ فیصلہ ہوگا کہ امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ پر کس پارٹی کا تسلط ہوگا ۔ ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں ریپبلیکن پارٹی پر سبقت حاصل کرنے کیلئے ایوان کی تین اور سینیٹ کی چار اضافی نشستیں جیتنی ہوگنی ۔ اگر ڈیموکریٹس کو اکثریت مل جاتی ہے تو وہ صدر ٹرمپ کی مزید دو سالہ معیاد کے دوران وہ ان کے ایجنڈہ کو چیلنج کر پائیں گے ۔ اصل مقابلہ ان اضلاع اور ریاستوں میںدیکھا جا رہا ہے جہاں ڈونالڈ ٹرمپ پہلے وسیع مارجن سے کامیابی حاصل کرچکے تھے ۔ الاسکا ‘ لووا ‘ کنساس ‘ مئین ‘ مشی گن ‘ اوہائیو اور ٹیکساس میںسینیٹ کیلئے مقابلہ ہو رہا ہے اور اس کے نتائج دلچسپ ہوسکتے ہیں۔حالیہ سروے صحیح نکلنے کی صورت میں، ڈیموکریٹس روایتی طور پر ریپبلکن مائل ریاستیں جیسے ٹیکساس اور کنساس میں پانچ کلیدی سینیٹ مقابلے جیت سکتے ہیں، اور دو میں کانٹے کا مقابلہ ہے ۔فی الحال سینیٹ میں 53 کے مقابلے میں 47 کی اکثریت کے ساتھ ریپبلکنس 100 نشستوں میں سے صرف ایک تہائی کیلئے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ڈیموکریٹس کو کنٹرول حاصل کرنے خالصتاً چار نشستیں جیتنا ہوں گی، کیونکہ 50-50 کی برابر صورت میں نائب صدر جے ڈی وینس فیصلہ کن ووٹ دے کر ریپبلکن کے حق میں فیصلہ کریں گے ۔ نیو یارک ٹائمز/سینا کے 23 اکتوبر تا یکم نومبر سات کلیدی ریاستوں میں تازہ سروے کے مطابق ڈیموکریٹس پانچ ریاستوں میں آگے ہیں اور دو میں صورتحال تقریباً برابر ہے ۔بہت سے مقابلے ابھی بھی مارجن آف ایرر کی حدود میں رہتے ہیں۔مشی گن میں ڈیموکریٹ امیدوار عبدالا السید ریپبلکن حریف مائیک راجرز کے مقابلے میں 53 فیصد کے مقابلے میں 42 آگے ہیں۔ ڈیموکریٹ کانگریس رکن ہیلی سٹیونز کا راجرز کی حمایت کرنا ڈیموکریٹس کی طرف سے حیران کن غداری کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے ۔ رئیل کلیر پولٹیکل کے اوسط اعداد و شمار دکھاتے ہیں کہ انہی مقابلوں میں زیادہ تر میں ڈیموکریٹس معمولی فرق سے آگے ہیں اور کئی کو سخت مقابلے کے طور پر جانچا جا رہا ہے ۔