واشنگٹن ۔ 23 اپریل (ایجنسیز) رائٹرز کے مطابق بحری جہاز رانی اور سیکیورٹی کے شعبوں سے وابستہ ذرائع نے بدھ کے روز بتایا کہ امریکی فوج نے ایشیائی پانیوں میں ایرانی پرچم بردار کم از کم تین آئل ٹینکروں کو روک لیا ہے اور ان کا رخ بھارت، ملائیشیا اور سری لنکا کے قریب ان کی اصل پوزیشنز سے ہٹا کر تبدیل کیا جا رہا ہے۔واشنگٹن کی جانب سے ایرانی بحری تجارت پر سخت پابندیاں عائد ہیں، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی کچھ کشتیوں کو روکنے کیلئے فائرنگ بھی کی۔امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے تقریباً دو ماہ بعد بھی جنگ بندی نازک ہے اور امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس سے توانائی کا عالمی بحران پیدا ہو گیا ہے۔حالیہ دنوں میں امریکی افواج نے ایک ایرانی کارگو جہاز اور ایک آئل ٹینکر کا کنٹرول بھی سنبھال لیا، جبکہ ایران نے اعلان کیا کہ اس نے چہارشنبہ کو دو کنٹینر بردار جہازوں کو جو خلیج سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے، فائرنگ کے بعد اپنے قبضے میں لے لیا۔ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکہ نے کم از کم تین ایرانی آئل ٹینکروں کا رخ موڑا، جن میں ”ڈیپ سی ”نامی سپر ٹینکر شامل ہے ،جو جزوی طور پر خام تیل سے لدا تھا اور آخری بار ملائیشیا کے قریب دیکھا گیا۔اسی طرح ”سیفن” نامی نسبتاً چھوٹا ٹینکر، جس کی گنجائش دس لاکھ بیرل ہے اور وہ 65 فیصد بھرا ہوا تھا، بھی روکا گیا۔H/I
مزید برآں ”ڈورینا ” نامی ایک بڑا ٹینکر، جو دو ملین بیرل خام تیل سے مکمل بھرا ہوا تھا، جنوبی بھارت کے ساحل کے قریب دیکھا گیا تھا اور امریکی بحریہ کا ایک جنگی جہاز اسے بحرِ ہند میں اس وقت لے جا رہا ہے ،جب اس نے مبینہ طور پر پابندیوں کی خلاف ورزی کی کوشش کی۔اسی طرح ”ڈیریا ”نامی ایک اور ٹینکر کے بارے میں بھی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسے روکا گیا، جو امریکی استثنیٰ ختم ہونے سے قبل بھارت میں اپنا ایرانی تیل اتارنے میں ناکام رہا۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ ایرانی بندرگاہوں کی جانب جانے یا وہاں سے آنے والے جہازوں پر پابندی کے بعد اب تک 29 جہازوں کو واپس لوٹنے یا اپنی روانگی کی بندرگاہ پر واپس جانے کی ہدایت دی جا چکی ہے، اگرچہ تمام کارروائیوں کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ایک بحری سیکیورٹی ذریعے کے مطابق امریکی فوج آبنائے ہرمز کے بجائے کھلے سمندری علاقوں میں ایرانی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ کارروائیوں کے دوران بارودی سرنگوں کے خطرے سے بچا جا سکے۔