امریکہ نے بھی پیغمبر اسلام ؐکے متعلق بی جے پی قائدین کے بیانات کی مذمت کی

,

   

چین کے ابھرتے ہوئے منظرنامہ میں ہندوستان اور امریکہ کا اپنے تعلقات مستحکم رکھنا وقت کی اہم ضرورت : نیڈپرائس

واشنگٹن : امریکہ نے ہندوستان کی حکمراں ہندوستانیہ جنتا پارٹی کے رہنماوں کی جانب سے پیغمبر اسلامؐ کے متعلق اہانت آمیز بیانات کی مذمت کی۔ اس بیان کے خلاف ہندوستانی مسلمانوں کے علاوہ مسلم ملکوں میں زبردست ناراضگی پائی جاتی ہے۔امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے جمعرات کے روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ پیغمبر اسلامؐ کے متعلق اہانت آمیز بیانات کی مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم ہندوستان کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے دو عہدیداروں کی جانب سے اہانت آمیز بیانات کی مذمت کرتے ہیں البتہ اس بات پر ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ پارٹی نے ان بیانات کی عوامی طورپر مذمت کی ہے۔”نیڈپرائس نے مزید کہا،”ہم مذہبی یا عقیدے کی آزادی سمیت انسانی حقوق کے حوالے سے تحفظات پر بھار ت کے سینیئر عہدیداروں کی سطح پر ہندوستانی حکومت کے ساتھ باقاعدگی سے رابطے میں رہتے ہیں۔اور ہم ہندوستان کو انسانی حقوق کے احترام کو فروغ دینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔”خیال رہے کہ حکمراں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان نوپور شرما نے 26مئی کو پیغمبر اسلامؐ کی اہلیہ حضرت عائشہ ؓکے خلاف توہین آمیز ریمارکس کیے تھے۔ ٹیلی ویژن پر ایک بحث کے دوران دیے گئے ان اہانت آمیز بیانات کے خلاف پوری مسلم دنیا میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ان اہانت آمیز بیانات کے بعد نہ صرف ہندوستان کے حریف پاکستان نے بلکہ بہت سے دولتمند عرب ملکوں نے بھی، جن کے نئی دہلی کے ساتھ قریبی دوستانہ تعلقات ہیں، سفارتی سطح پر احتجاج کیا تھا۔ بنگلہ دیش میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ آج جمعہ کو بھی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ہندوستان کی قریبی حلیف وزیر اعظم شیخ حسینہ اس اہانت آمیز بیان کی باضابطہ مذمت کریں۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں احتجاج سے پیدا ہونے والے نقصان پر قابو پانے کی کوشش میں بی جے پی نے نوپور شرما کو پارٹی سے معطل اور ایک دوسرے رہنما نوین کمار جندل کو پارٹی سے برطرف کردیا۔بی جے پی نے بعد میں ایک بیان جاری کرکے کہا کہ وہ تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے اور کسی کو بھی دوسرے مذاہب کی توہین کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ اس نے اپنے ترجمانوں کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ ٹی وی مباحثوں میں کوئی مذہبی بات نہ کریں۔وزیر اعظم مودی کی قیادت والی ہندوستانی حکومت نے بھی اپنے موقف کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں رہنماوں کے بیانات حکومت کے نظریات و خیالات کی نمائندگی نہیں کرتے اور وہ تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ہندوستانی آئین میں تمام مذاہب کو یکساں احترام اور مقام حاصل ہے۔ وزیر اعظم نریندرمودی نے تاہم اپنی جماعت کے رہنماوں کی جانب سے پیغمبر اسلامؐ کی اہانت کے معاملے پر ابھی تک کچھ نہیں کہا ہے۔خیال رہے کہ امریکہ ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوریتوں کا خیال ہے کہ بالخصوص ابھرتے ہوئے چین کے منظر نامے میں دونوں ملکوں کے مفادات یکساں ہیں۔امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے گزشتہ سال نئی دہلی کے اپنے دورے کے دوران کہا تھا کہ امریکی اور ہندوستانی عوام یکساں اقتدار پر یقین رکھتے ہیں، جن میں انسانی وقار اور احترام کے مواقع کے حصول میں مساوات اور مذہبی آزادی شامل ہے۔ یہ کسی بھی جمہوریت میں بنیادی اقدار ہیں اور امریکہ دنیا بھر میں ان کے لیے آواز اٹھاتا رہے گا۔