دبئی ۔ 12 مئی (ایجنسیز) اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات نے متحدہ عرب امارات کو ایران کے نشانے پر لا کھڑا کیا ہے کیونکہ ابوظہبی دیگر خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ خودمختار خارجہ پالیسی اختیار کر رہا ہے۔ فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) تقریباً 2,800 سے زائد ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ 2020 میں امریکہ نے ابراہیمی معاہدہ کے تحت یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کروائے تھے۔ لندن میں قائم تھنک ٹینک RUSI کے ماہر مائیکل اسٹیفنز کے مطابق یو اے ای کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ایران کی جانب سے اس پر حملوں کی ایک بڑی وجہ ہیں، جیسے کہ یہ ایک طرح کی سزا ہو۔ اسٹیفنز نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ایران کا مؤقف ہے کہ ‘اگر ہمیں اسرائیل نے نشانہ بنایا ہے تو ہم اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنائیں گے‘۔ ایرانی حملوں کے جواب میں یو اے ای نے اسرائیل کے ساتھ فوجی، سکیورٹی اور انٹیلی جنس تعاون مزید بڑھا دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے پہلی بار اپنا آئرن ڈوم دفاعی نظام بھی یو اے ای میں تعینات کیا۔ ماہرین کے مطابق یو اے ای جتنا اسرائیل کے قریب جاتا ہے، ایران کے لیے اسے نشانہ بنانے کی وجہ بھی اتنی ہی بڑھتی ہے۔ اس کے علاوہ ابو موسیٰ اور تنب جزائر کے تنازعہ نے بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھایا ہے۔ ایران ان جزائر پر کنٹرول رکھتا ہے تاہم یو اے ای بھی ان پر دعویٰ کرتا ہے۔