امریکہ ۔ ایران جنگ بندی

   

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے معلنہ موقف کے برخلاف ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کردی ہے اور خاص بات یہ ہے کہ یہ ایک طرح سے غیر معینہ مدت کی جنگ بندی ہے کیونکہ صدر ٹرمپ نے ایران کیلئے آئندہ اقدام کیلئے کوئی وقت مقرر نہیں کیا ہے ۔ امریکہ اور ایران کے مابین پہلے سے طئے پائی دو ہفتوں کی جنگ بندی کی مہلت ابھی ختم ہونے ہی والی تھی کہ ٹرمپ نے اچانک ہی غیر معینہ مدت کیلئے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردیا اور یہ واضح کیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران کی قیادت اور اس کے نمائندے مجتمع ہو کر کوئی مشترکہ تجویز پیش کریں تاکہ مستقل امن قائم ہوسکے ۔ جہاں تک پاکستان میںدوسرے دور کی بات چیت کا سوال ہے تو یہ انتہائی غیر واضح تھا کہ بات چیت ہوگی بھی یا نہیں۔ امریکہ کی جانب سے لگاتار دباو ڈالا جا رہا تھا اور صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کردیا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاملت نہیںہوتی ہے تو وہ دوبارہ سے فوجی کارروائیوں کا آغاز کرسکتے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ اب ایران کے پاس کوئی وقت نہیں ہے اور وہ جنگ بندی میں توسیع نہیں کرنا چاہتے ۔ تاہم انہوں نے یکطرفہ طور پرجنگ بندی میں توسیع کردی ۔ ایران کی جانب سے اس جنگ بندی کے تعلق سے ابھی کوئی بیان سامنے نہیںآیا ہے تاہم یہ سوال ضرورپیدا ہو رہے ہیں کہ آیا پاکستان میںدوسرے دور کی بات چیت کے بغیر کن عوامل کی بنیاد پر ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ دوسرے دور کی بات چیت میں در پردہ مشاورت کی گئی تھی اور پاکستان نے اس میں سرگرم رول ادا کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے جنگ بندی میںتوسیع کی اپیل کی تھی تاکہ سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کا موقع مل سکے ۔ صدر ٹرمپ نے بھی یہ تسلیم کیا کہ انہوں نے پاکستان کی اپیل پر جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس جنگ بندی کے بعد علاقہ میںصورتحال میں بہتری کی امید کی جا رہی ہے تاہم در پردہ جو حالات رہے ہیں ان کے تعلق سے تجسس بھی برقرار ہے ۔ جنگ بندی کے اعلان پر ایران کی تاحال خاموشی سے بھی تجسس میںاضافہ ہو رہا ہے ۔
ٹرمپ نے حالانکہ جنگ بندی کا اعلان تو ضرور کردیا ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا محاصرہ برقرار رہے گا اور ایرانی بندرگاہوں کی نقل و حرکت کو بھی روکنے کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ جنگ بندی کے اعلان اور غیر واضح صورتحال کے دوران ایران نے بھی آبنائے ہرمز کو پار کرنے کی کوشش کرنے والے دو بحری جہازوں پر فائرنگ کی ہے ۔ ایک طرح سے ان پر قبضہ بھی کرلینے کا اشارہ دیا ہے اور کہا ہے کہ ان دونوں ہی جہازوں کو ایرانی آبی حدود میں لیجایا گیا ہے ۔ ایران آبنائے ہرمز پر امریکہ کے محاصرہ کو قبول کرنے بھی تیار نہیں ہے اور امریکہ اسے ختم کرنے بھی تیار نہیں ہے ۔ اس صورتحال میں ایک طرح سے صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اچانک ہی جنگ بندی کا اعلان غیر متوقع کہا جا رہا ہے اور اسی وجہ سے تشویش اورا ندیشے پوری طرح سے ختم نہیں ہوئے ہیں۔ اگر درپردہ مشاورت ہوئی ہے اور سفارتی کوششیں ہوئی ہیں تو ان کو ابھی واضح نہیں کیا جاسکا ہے اور جب تک در پردہ سفارتی کوششوں کے تعلق سے حقائق منظر عام پر نہیں آجاتے اس وقت تک جنگ بندی کے تعلق سے اور اس کے بعد پیش آنے والے حالات کے تعلق سے تجسس ضرور برقرار رہے گا ۔ جنگ بندی کے پس پردہ ٹرمپ کی کیا حکمت عملی رہی ہے اور پاکستان کا کیا رول رہا ہے اس تعلق سے بھی دنیا تفصیلات جاننا چاہتی ہے ۔ مکمل اور واضح صورتحال سامنے آنے تک اندیشے اور شبہات کو مسترد کرنا بھی ممکن نہیں ہوسکتا ۔
اگر ایران کے ساتھ در پردہ سفارتی کوششوں میں کوئی پیشرفت ہوئی ہے اور دونوں ہی فریقین کے موقف میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے تو اس کو دنیا کے سامنے لایاجا نا چاہئے تاکہ بے چینی کی کیفیت کو ختم کیا جاسکے اور دنیا بھر میںاستحکام کی فضاء پیدا ہوسکے ۔ اس جنگ بندی کیلئے ٹرمپ کی جو بھی مصلحت رہی ہو اور ایران کا جو بھی موقف رہا ہو وہ بہت اہمیت کا حامل کہا جاسکتا ہے کیونکہ ایران نے بارہا یہ واضح کردیا تھا کہ وہ کسی طاقت کے آگے جھکنے کو تیار نہیں ہے ۔ ایران کا اب بھی یہی موقف ہے ۔ جنگ بندی میں توسیع ایک اچھی بات ہے اور کوشش یہ کی جانی چاہئے کہ مستقل اور دیرپا امن کو بھی ممکن بنایا جائے ۔