امن کی وجہ سے سال 2023میں بارڈر ٹورازم میں اضافہ ہوا

   

سری نگر: جموں و کشمیر کے سرحدوں پر سال 2023 کے دوران گذشتہ برسوں کے مقابلے میں گولہ باری اور گولیوں کی گن گرج خاموش رہنے سے امن و سکون کا ماحول سایہ فگن رہا جو سرحدی ٹورزم کے فروغ کے لئے کافی حد ممد و معاون ثابت ہوا۔سرکاری ذرائع کے مطابق سال 2023 کے دوران پاکستان کی طرف سے جموں وکشمیر کے سرحدوں پر جنگ بندی خلاف ورزی کے کم سے کم 5 واقعے پیش آئے جبکہ سال 2022 کے دوران اس نوعیت کے کم سے کم 6 واقعے پیش آئے تھے ۔ہندوستان اور پاکستان نے 24 اور 25 فروری 2021 کی درمیانی شب لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدوں پر عمل در آمد پر اتفاق کیا۔ در حقیقت دونوں ممالک کے درمیان سال 2003 میں جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا لیکن اس کے باوصف سرحدوں پر طرفین کے درمیان ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر گولہ باری کے تبادلے کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری رہتا تھا جس کے نتیجے میں سرحدوں کے آر پار بے تحاشا جانی و مالی نقصان ہوا ہے ۔سال 2021 کے اوئل میں طرفین کی طرف سے اس معاہدے پر اتفاق کرنے سے جہاں سرحدی لوگوں نے خوشی و شادمانی کا اظہار کیا وہیں جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے بھی اس اقدام کا والہانہ استقبال کیا۔سال 2021 کے اوائل میں جنگ بندی معاہدوں پر عمل در آمد کرنے پر اتفاق کے بعد سرحدوں پر امن و امان سایہ فگن ہوگیا اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کے واقعات میں نمایاں کمی درج ہونے لگی۔ جو سرحدی بستوں خوشی و خوشحالی کی نوید لے کر آیا۔سال 2021 میں جموں وکشمیر کے سرحدوں پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے صرف 72 واقعات پیش آئے جن میں سے بیشتر واقعات معاہدے پر عمل در آمد پر اتفاق سے قبل ہی پیش آئے تھے ۔اس معاہدے سے قبل جموں وکشمیر کے سرحدوں خواہ وہ ایل او سی ہے یا بین الاقوامی سرحد ہے ، پر ہر سال ہزاروں کی تعداد میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہوا کرتی تھی جس سے دونوں ممالک کو بے تحاشا جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔