ایک آدھار سے دو تنخواہیں حاصل کرنے والے 40 ملازمین کی نشاندہی

   

محکمہ فینانس کی جانچ میں دھاندلی کا انکشاف، کریمنل مقدمات درج کرنے کے احکامات جاری

حیدرآباد ۔ 8 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں ایک سنگین بے قاعدگی اور بڑا گھوٹالہ سامنے آیا ہے۔ محکمہ فینانس کی حالیہ چھان بین کے دوران یہ انکشاف ہوا ہیکہ 40 ملازمین انتہائی چالاکی کے ساتھ ایک ہی وقت میں دو مختلف سرکاری محکموں میں کام کررہے ہیں اور دونوں جگہوں سے باقاعدہ تنخواہیں حاصل کررہے ہیں۔ محکمہ فینانس نے انٹیگریٹیڈ فینانشیل انفارمیشن سسٹم (IFMIS) ڈیٹابیس اور آدھار نمبرات کی کراس ویریفکیشن کی تو اس بے قاعدگی کا پتہ چلا۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 40 ایسے ریگولر ملازمین ہیں جو ایک ہی آدھار نمبر کا استعمال کرتے ہوئے دو اداروں یا محکموں سے تنخواہیں حاصل کرکے سرکاری خزانے کو لوٹ رہے ہیں۔ اس سنگین بے قاعدگی کا نوٹ لیتے ہوئے تلنگانہ حکومت نے اس میں ملوث تمام ملازمین اوردو جگہوں سے غیرقانونی طور پر تنخواہیں حاصل کرنے والے ملازمین کیخلاف فوری طور پر فوجداری مقدمات درج کئے جائیں گے۔ ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی اور انہیں ملازمت سے برطرفی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔2

اس طرح کے دیگر معاملات کی نشاندہی کیلئے حکومت نے تمام سرکاری محکموں کے ملازمین کے آدھار کارڈس، سرویس ریکارڈس اور (IFMIS) پورٹل میں درج تمام تفصیلات کی جامع اور شفاف طریقے سے تصدیق کریں۔ تمام ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرس (DDOs) کو ہدایت دی گئی ہیکہ وہ تنخواہوں کی ادائیگی کے ریکارڈ کا باریک بینی سے معائنہ کریں اور کسی بھی قسم کی مشکوک سرگرمی کی رپورٹ فوری اعلیٰ حکام کو پیش کریں۔2