امیت شاہ پر راہول کو سبقت

   

شیلجا باجپائی
امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج یقینا راہول گاندھی اور اپوزیشن اتحاد انڈیا کیلئے اُمید کی ایک کرن ہے ۔ امریکہ میں جس طرح عوام نے ایران جنگ اور مہنگائی کے خلاف ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو شکست سے دوچار کیا وہیں لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی اور ساری اپوزیشن آج خود کو امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کی جگہ دیکھنا پسند کریں گے ۔ امریکہ میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کو برتری حاصل ہوگئی ۔ باالفاظ دیگر دونوں پر ڈیموکریٹک پارٹی کا قبضہ ہوگیا ۔ حالانکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اُن کے حامیوں کو اس بات کا یقین تھا کہ وہ واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کریں گے ۔
آپ کو بتادیں کہ امریکی ڈیموکریٹکس نے بمشکل تین چار دن قبل دنیا کے سب سے طاقتور وبااثر شخص ڈونالڈ ٹرمپ کا بڑی کامیابی سے مقابلہ کیا ہے۔ منگل کی رات امریکی سیاست میں ایک بڑی اور واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی جب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو امریکی رائے دہندوں نے سخت چیلنج دیا اور اُنھیں اپنی سیاسی طاقت کا احساس دلایا ۔ (بحوالہ نیویارک ٹائمز )
امریکی عوام نے ڈیموکریٹس کو امریکی سنیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں میں اکثریت دے دی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب صدر ٹرمپ جنھیں ’’مسٹر ویٹو‘‘ کہا جاتا ہے کو ڈیموکریٹس کے ساتھ 50-50 کی بنیاد پر اقتدار میں حصہ داری یا شراکت داری کرنا پڑے گی ۔ یہاں کی قومی اور ریاستی سطح پر بی جے پی اپوزیشن سے کافی آگے ہے جیسا کہ حالیہ ایم ایل سی انتخابات میں بھی دیکھنے کو ملا لیکن اپوزیشن خبروں کا ایجنڈہ طے کرنے کے معاملہ میں بی جے پی کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہی ۔ صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ آج خبروں میں بی جے پی اور کانگریس کے ساتھ دیگر اپوزیشن جماعتوں کو تقریباً برابر یعنی 50-50 کوریج مل رہی ہے اور اس مقابلہ میں سب سے نمایاں مقام راہول گاندھی کو حاصل ہے جو لوک سبھا میں قائد اپوزیشن ہے ۔ اخبارات اور ٹیلی ویژن نیوز چینلز راہول گاندھی کو بھرپور توجہ دے رہے ہیں وہ جو کچھ بھی کہتے یا کرتے ہیں وہ خبر بن جاتی ہے ۔
بی جے پی کی جانب سے اُن پر مسلسل حملے بھی خبروں کا موضوع بنتے ہیں ممکن ہے کہ اُنھیں وزیراعظم نریندر مودی سے بھی زیادہ میڈیا کوریج حاصل ہورہی ہے اور یہ اُس شخص کیلئے کوئی معمولی کامیابی نہیں ہے جسے طویل عرصہ تک پپو کہکر مذاق کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا رام لیلا کی ریالی راہول گاندھی کا شو بن گئی ۔ یکم نومبر کو 19 اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے رام لیلا میدان میں منعقدہ ایس آئی آر کے خلاف ریلی نے خبروں میں راہول گاندھی کی نمایاں حیثیت سے تصدیق کردی۔ اس ریلی کو اتوار کے پورے دن نیوز ٹی وی چیانلز پر مسلسل کوریج ملی اور 2 نومبر کو ہندی اور انگریزی اخبارات کی سرخیاں بھی اس ریلی کے نام رہیں ۔ زیادہ تر وقت ٹی وی کیمروں میں ہمیں دو ہی مناظر بار بار دکھائی دیئے ایک طرف ڈرون کیمروں سے دلی چلو مارچ کے وسیع مناظر دکھائی جاتے رہے جبکہ دوسری طرف راہول گاندھی ایک کھلی جیپ کی اگلی نشست پر بیٹھے نظر آئے ۔ اسی جیپ میں سوار ہوکر اپوزیشن قائدین ریالی کیلئے رام لیلا میدان پہنچے تھے ۔’’آج تک ‘‘ نے اس قافلہ کو راہول کے قافلہ کا نام دیا ۔
رام لیلا میدان میں اپوزیشن کے بعض قائدین کی تقاریر ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر ہوئیں۔ ہم نے سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو اور صدر کل ہند کانگریس کمیٹی ملکارجن کھرگے کی تقریر بھی سنیں لیکن اس جلسے کا سب سے اہم اور مرکزی خطاب راہول گاندھی کا تھا ۔ ہندوستان ٹائمز اور نوبھارت ٹائمز جیسے کئی اخبارات نے 2 نومبر کی اپنی اشاعت میں اور وہ بھی صفحہ اول پر جیپ کی تصویر کو نمایاں جگہ دی جبکہ انڈین ایکسپریس کے بشمول بعض دیگر اخبارات نے رام لیلا میدان کے شہ نشین کی تصاویر شائع کئیں جن کے درمیان میں راہول گاندھی موجود تھے ۔ انڈیا ٹی وی کے مطابق مودی کے لوگوں نے بھی سڑکوں پر اُترنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ہم نے مرکزی وزراء امیت شاہ اور جے پی نڈا ، بی جے پی صدر نتن نوین اور بی جے پی کی حکومت والی یا زیراقتدار ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو دستور بچاؤ پدیاترا میں حصہ لیتے دیکھنا ۔ ایک بار پھر مقابلہ بی جے پی بمقالہ راہول گاندھی کا تھا ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں کیونکہ نیٹ مسابقتی امتحان کے پرچے لیک ہونے اور بعد ازاں امتحان منسوخ کئے جانے کے بعد سے اور اب SIR کے دوران ووٹ چوری کے الزامات کے معاملہ پر بھی یہی سیاسی مقابلہ جاری ہے ۔
دوسری طرف اگر بی جے پی میڈیا کی توجہ دوبارہ حاصل کرنے کیلئے میدان میں اُتری تھی تو وہ کس حد تک اپنے مقصد میں کامیاب رہی۔ اخبارات اور ٹی وی نیوز میں سنڈے سوپر شو ڈاؤن ( این ڈی ٹی وی ) احتجاج بمقابلہ احتجاج ( انڈیا ٹو ڈے ) کے طورپر پیش کیا گیا یا کوریج دیا گیا تاہم یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ کوریج کے معاملہ میں رام لیلا میدان کے احتجاج کو برتری حاصل رہی جبکہ ٹی وی نیوز میں روتھک میں امیت شاہ کی جانب سے کی گئی ریالی اور اُن کے خطاب کو پیش کیا گیا ۔ نیوز 18 نے روتھک تا رام لیلا میدان سیاسی میدان جنگ جیسی سرخی لگائی ۔ اخبارات نے ہوسکتا ہے کہ اپوزیشن کی ریالی کو بہت زیادہ اہمیت دی لیکن روتھک میں امیت شاہ نے جو تقریر کی اُسے اپوزیشن کی ریالی کے برابر کوریج دیا ۔ کئی ہندی اخبارات بشمول دینک جاگرن اور ہندوستان نے روتھک اور رام لیلا میدان کی ریالی سے متعلق خبر کو صفحہ اول پر جگہ دی ۔