امیت شاہ کی دورۂ حیدرآباد کے موقع پر دروغ گوئی !

   

تین کروڑ دراندازوں کا دعویٰ بے بنیاد ۔وزارت داخلہ کے پاس کوئی ریکارڈ موجود نہیں

حیدرآباد۔3۔نومبر۔(سیاست نیوز) وزیر داخلہ مسٹر امیت شاہ نے اپنے دورۂ حیدرآباد کے دوران کذب بیانی سے کام لیا اور دروغ گوئی کے ذریعہ گمراہ کن تقریر کے ذریعہ یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ ایس آئی آر کے دوران ملک میں غیر قانونی دراندازی کرنے والوں کے ناموں کو حذف کیا گیا ہے اور اپوزیشن دراندازوں کے ووٹ بچانے کے لئے جدوجہد کر رہی ہے۔مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے دورۂ حیدرآباد کے دوران ملک میں 3کروڑ دراندازوں کی موجودگی کا دعویٰ ان کے محکمہ کی جانب سے ہی بے بنیاد قرار دیاگیا ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ نے سال 2025کے دوران قانون حق آگہی کے تحت داخل کی گئی ایک درخواست میں یہ بات کہی تھی کہ وزارت داخلہ کے پاس ملک میں دراندازی کرنے والوں کی ہی نہیں بلکہ ہندستان میں پناہ گزین افراد یاغیر قانونی طور پر مقیم افراد کی کوئی تفصیلات موجود نہیں ہیں اور نہ ہی مرکزی وزارت داخلہ یہ ریکارڈ رکھتا ہے۔ شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے وکیل جناب ایس کیو مسعود نے آرٹی آئی کے تحت جو درخواست داخل کی تھی اس کے جواب میں سال گذشتہ مرکزی وزارت داخلہ نے یہ جواب دیا تھا لیکن گذشتہ یوم اپنے خطاب کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ ہندستان میں 3 کروڑ غیر قانونی دراندازوں کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کئے گئے ہیں اور کانگریس ‘ و دیگر اپوزیشن جماعتیں راہول گاندھی کی قیادت میں 3کروڑ غیر قانونی دراندازوں کے ووٹ بچانے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ امیت شاہ کے اس دعوے کی قلعی خود ان کے محکمہ داخلہ کی جانب سے آرٹی آئی کے تحت دیئے گئے جواب سے کھل جاتی ہے کہ ان کے محکمہ کے پاس بھی یہ تفصیلات موجود نہیں ہیں تو انہیں یہ تفصیلات کس نے فراہم کی ! آرٹی آئی کے جواب میں کہاگیا تھا کہ غیر قانونی دراندازوں یا قانونی پناہ گزینوں کے معاملہ میں تفصیلات اکٹھا کرنا اور انہیں جمع کرنا ریاستی حکومتوں کے اختیار میں ہے اور ریاستی حکومت یہ تفصیلات اپنے پاس رکھتی ہے۔3
امیت شاہ کے دورۂ حیدرآباد کے دوران اپنے خطاب میں کئے گئے دعوے کی قلعی کھولتے ہوئے جناب ایس کیو مسعود نے کہا کہ مرکزی وزارت داخلہ نے جو جواب ارسال کیا تھا اس کی نقولات اب بھی آن لائن دستیاب ہیں اس کے علاوہ بیرونی ملک کے پناہ گزینوں کے معاملات سے نمٹنا اور ان کی فلاح و بہبود کے ساتھ انہیں سکونت اختیار کرنے کے لئے عارضی اجازت نامہ کی فراہمی مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس کے لئے خصوصی بجٹ مختص کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود جب مرکزی وزارت داخلہ ہی یہ کہہ رہی ہے کہ ان کے پاس ایسے شہریوں اور مکینوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے تو پھر مسٹر امیت شاہ کس طرح یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ فہرست رائے دہندگان سے جو نام حذف ہوئے ہیں وہ غیر قانونی دراندازوں کے تھے!انہوںنے راست مرکزی وزیر داخلہ سے استفسار کیا کہ انہیں 3کروڑ کا عدد کس محکمہ سے حاصل ہوا ہے اس کی انہیں تفصیلات فراہم کرنی چاہئے تاکہ عوام کو اس بات کا پتہ چل سکے کہ ہندستان میں کونسا ایسا محکمہ ہے جو سرحدسے دراندازی کرتے ہوئے ملک میں رہائش پذیر ہیں ان کا ریکارڈ رکھتا ہے۔3