جکارتہ : انڈونیشیا میں پولیس نے ’توہین مذہب‘ کے الزام میں چھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک پوسٹ میں، جسے اب ہٹایا جا چکا ہے۔ ’ہولی ونگز‘ نامی ایک پب کی طرف سے لکھا گیا تھا کہ وہاں جانے والوں میں سے مریم نامی تمام خواتین اور محمد نامی تمام مردوں کو شراب کی ایک بوتل مفت فراہم کی جائے گی۔ انڈونیشیا میں کسی بھی مذہب کے افراد کے شراب پینے پر پابندی نہیں مگر سماجی طور پر اس عمل کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ اس پب کی مذکورہ پوسٹ پر کافی زیادہ آن لائن مذمت کی گئی تھی۔ اس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اس شراب خانے کے چھ افراد کو حراست میں لے لیا۔ یہ معاملہ اس وقت انڈونیشیا میں کافی زیادہ توجہ کا باعث بنا ہوا ہے۔