انڈوں کی قیمت میں زبردست اضافہ فی انڈا 7 روپئے میں فروخت ہورہا ہے

   

موسم سرد ہوجانے ، دانہ اور ٹرانسپورٹ کے چارجس میں اضافہ سے پیداوار میں کمی
حیدرآباد ۔ 2 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : ریاست میں موسم سرد ہونے کے ساتھ مرغی کے انڈوں کی قیمت میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے جو غریب خاندانوں پر اضافی مالی بوجھ ثابت ہورہا ہے ۔ گذشتہ ماہ فی انڈے کی قیمت 5.50 روپئے تھی ایک ہفتہ قبل 6 روپئے میں فی انڈا فروخت کیا گیا اب اس کی قیمت بڑھ کر 7 روپئے ہوگئی ہے ۔ چند ہی دنوں میں ایک درجن کی قیمت میں 72 سے بڑھ کر 84 روپئے ہوگئی ہے ۔ ہول سیل میں فی انڈا 5.76 روپئے میں فروخت ہورہا ہے ۔ چکن کی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ ہوگیا ہے ۔ ایک ماہ قبل 170 تا 190 روپئے فی کلو چکن فروخت کیا گیا تھا اب اس کی قیمت بڑھ کر 240 روپئے فی کلو ہوگئی ہے ۔ ریاست میں 1100 پولٹری فارمس ہیں ۔ ملک میں مرغی کے انڈوں کی پیداوار میں ریاست کو تیسرا مقام حاصل ہے ۔ ریاست میں سالانہ 17.67 بلین انڈوں کی پیداوار ہورہی ہے ۔ تاہم گذشتہ 20 دن سے سردی میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے ۔ عوامی صحت پر بھی اس کا اثر دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ اس کے علاوہ مرغیوں کو کھلائے جانے والے دانہ کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے ۔ گاڑی کے مالکین نے گذشتہ دو ماہ سے ٹرانسپورٹ کے چارجس میں 15 فیصد کا اضافہ کردیا ہے جس کے نتیجے میں انڈے کی قیمت میں اضافہ ہوجانے کا پولٹری فارمس انتظامیہ کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے ۔ ایک سال قبل سویابین دانا کی قیمت فی کنٹل 5 ہزار روپئے تھی جو اب بڑھ کر 7200 روپئے تک پہونچ گئی ہے ۔ مکئی کی قیمت فی کنٹل 1800 روپئے تھی جو اب بڑھ کر 2 ہزار روپئے فی کنٹل ہوگئی ہے ۔ حیدرآباد میں عام طور پر روزانہ 80 لاکھ انڈے فروخت ہوتے ہیں ۔ گذشتہ ماہ 90 لاکھ انڈے فروخت ہوئے تھے ۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ دوبارہ کورونا کے کیسیس سامنے آرہے ہیں جس کی وجہ سے انڈوں کی قیمت میں اضافہ ہورہا ہے۔۔ 2